خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 334 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 334

خطبات مسرور جلد ہشتم 334 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 جولائی 2010 دوران ایک دہشتگرد نے گولیوں کی بوچھاڑ ماری جس سے آپ کی کمر چھلنی ہو گئی اور آپ موقع پر شہید ہو گئے۔شہید مرحوم نے سانحہ سے دس دن قبل خواب میں دیکھا تھا کہ والدین مرحومین سے ملاقات ہوئی ہے۔والدین کہتے ہیں کہ بیٹا ہمارے پاس ہی آکر بیٹھ جاؤ۔اہل خانہ نے بتایا کہ تہجد اور نمازوں میں با قاعدہ تھے۔شادی کے پچیس سالہ عرصہ میں کبھی سختی سے بات نہیں کی۔دونوں بچوں کو وقف نو کی بابرکت تحریک میں پیش کیا۔والدین کی وفات سے قبل بھر پور طریقے سے والدین کی خدمت کا موقع ملا۔خدمت خلق کا بہت شوق اور جذبہ تھا۔احمدیت کے حوالے سے بہت جذباتی تھے۔اپنے آبائی گاؤں میں ان کا اکیلا احمدی گھر تھا۔ایک دفعہ مخالفین نے جلسہ کیا اور لاؤڈ سپیکر میں جماعت کے خلاف سخت بد زبانی کی۔رات کا وقت تھا، یہ چپکے سے گھر سے نکلے اور وہاں جا کر ان کو سختی سے کہا کہ یہ بد کلامی بند کرو اور اونچی آواز کو بند کرو اور اگر کوئی بات کرنی ہے تو ہمارے ساتھ بیٹھ کر بات کر لو۔جس پر مخالفین نے لاؤڈ سپیکر کی آواز بند کر دی۔واپس آنے پر اہلیہ نے کہا آپ اکیلے چلے گئے تھے ، مخالفین اتنے زیادہ تھے اگر وہ آپ کو مار دیتے تو کیا ہو تا۔تو جوابا کہا زیادہ سے زیادہ شہید ہو جاتا۔اس سے اچھا اور کیا تھا؟ لیکن مجھ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے سلسلہ کے خلاف بد زبانی سنی نہیں جارہی تھی۔مکرم ڈاکٹر اصغر یعقوب خان اگلا ذکر ہے مکرم ڈاکٹر اصغر یعقوب خان صاحب شہید ابن مکرم ڈاکٹر محمد یعقوب خان صاحب کا۔شہید مرحوم صاحب کے والد 1903ء میں بٹالہ میں پیدا ہوئے۔ان کے دادا حضرت شیخ عبد الرشید خان صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تھے۔ان کے والد اور ان کے نانا حضرت ڈاکٹر محمد ابراہیم صاحب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے معالج کی حیثیت سے بھی خدمت کی توفیق پاتے رہے۔شہید مرحوم 25 اگست 1949 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ایف ایس سی کے بعد ایم ایس سی بائیو کیمسٹری میں کیا اور پھر ایم بی بی ایس کی ڈگریاں لیں۔بوقت شہادت ان کی عمر 60 سال تھی۔مسجد دارالذکر میں جام شہادت نوش فرمایا اور ماڈل ٹاؤن لاہور میں تدفین ہوئی۔عموماً نماز جمعہ کڑک ہاؤس میں ادا کیا کرتے تھے۔کبھی کبھی دارالذکر بھی چلے جاتے۔سانحہ کے روز بیٹے کو کالج چھوڑنے گئے اس کے بعد قریب ہی دارالذکر چلے گئے۔ایک بج کر چالیس منٹ کے قریب یہ مسجد میں داخل ہوئے۔اسی دوران گیٹ کے قریب ہی دہشتگردوں کی فائرنگ شروع ہوئی۔چھاتی اور ٹانگ میں گولیاں لگیں، تھوڑی دیر تک ہوش میں رہے۔ایمبولینس میں اپنا نام و غیرہ بتایا تاہم ہسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں شہید ہو گئے۔اہل خانہ نے بتایا کہ حقیقی معنوں میں انسانیت کی خدمت کرنے والے تھے۔کبھی کسی امیر و غریب میں فرق نہیں کیا۔سب سے ایک جیسا ہمدردانہ سلوک کرتے تھے۔مریضوں کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں ہوتا تھا۔جب بھی کوئی ضرور تمند آ جاتا آپ خدمت کے لئے تیار ہوتے اور ہمیشہ ہر ایک کے ساتھ ہمدردی سے پیش