خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 333 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 333

خطبات مسرور جلد ہشتم 333 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 جولائی 2010 وقت شہید کی خالہ کھڑی ہو گئیں اور بڑی سختی سے اور بڑی جرأت کا مظاہرہ کیا۔انہوں نے کہا: نہیں، اس بچے نے فون کیا تھا کہ مجھے ربوہ لے کر جانا۔ان کی خواہش کے مطابق ان کو ہم ربوہ ہی لے کر جائیں گے۔شہید مرحوم کے والد نے تاحال بیعت نہیں کی۔پہلے تو ان کا رویہ سخت تھا مگر اب نسبتا نرم ہے۔شہید مرحوم کی والدہ نے شہادت سے پہلے خواب میں مجھے دیکھا کہ میں ان کے گھر گیا ہوں۔ان کی کزن نے خواب میں دیکھا کہ پانچوں خلفاء کی تصاویر لگی ہیں اور ایک راستہ بنا ہوا ہے جس پر لکھا ہوا ہے This is the right way۔جیسا کہ میں نے بتایا شہید ایم بی بی ایس کر رہے تھے اور پہلے سال کے طالب علم تھے۔پڑھائی کا بڑا شوق تھا۔بزرگوں کی خدمت کا بڑا شوق تھا۔ان کی خواہش تھی کہ عملی زندگی میں جب قدم رکھوں تو بے سہارا لوگوں کے لئے اپنی نانی کے نام پر ایک سعیدہ اولڈ ہاؤس بناؤں گا۔ابھی بھی جیسا کہ میں نے کہا ان کے خاندان میں اور محلے میں ان لوگوں کی بڑی سخت مخالفت ہے اور والدہ نے یہ درخواست بھی کی ہے کہ دعا کریں اللہ تعالیٰ ہمیں ثبات قدم عطا فرمائے اور ہر شر سے محفوظ رکھے۔اتنی مخالفت ہے کہ جو جماعتی وفد ملنے گیا، جو احمدی لوگ تعزیت کرنے گئے ہیں وہ ان کے گھر بھی نہیں جا سکے تھے۔شہید مرحوم نے باوجود نو مبائع ہونے کے جو استقامت دکھائی ہے یقیناً یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خاص تعلق کی وجہ سے تھی کہ انہوں نے جب مسیح موعود کو پہچانا اور ان کو آپ کا سلام پہنچایا تو اس کے لئے اپنی جان کی بازی لگادی۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے۔مکرم شار احمد صاحب دو سر اذ کر ہے مکرم نثار احمد صاحب شہید ابن مکرم غلام رسول صاحب کا۔شہید مرحوم کے آباؤ اجداد کا تعلق ضلع نارووال سے تھا۔ان کے دادا حضرت مولوی محمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام امر تسر کے رہنے والے تھے۔یہ بیعت کر کے جماعت میں شامل ہوئے۔شہید مرحوم سترہ سال کی عمر میں لاہور آگئے اور اشرف بلال صاحب جو اس سانحہ میں شہید ہو گئے ہیں ان کی فیکٹری میں کام شروع کیا، ان کے ساتھ ہی رہے۔شہادت کے وقت شہید کی عمر 46 سال تھی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔مسجد دارالذکر میں اشرف بلال صاحب کو بچاتے ہوئے انہوں نے جام شہادت نوش فرمایا۔عموماً نماز جمعہ دارالذکر میں ہی ادا کرتے اور بچوں کو بھی ساتھ لاتے۔سانحہ کے روز بھی بچوں کو ساتھ لے کر آئے۔نماز جمعہ سے قبل صدقہ دینا ان کا معمول تھا۔بچوں کو بھی اس کی تلقین کرتے تھے کہ اس سے ثواب ہوتا ہے۔سانحہ کے روز بھی صدقہ دیا۔ایک بیٹے نے کہا کہ میری طرف سے بھی صدقہ دیں۔انہوں نے کہا کہ بیٹا آپ خود اپنے ہاتھ سے صدقہ دیں۔بعد میں پتہ چلا کہ بیٹے کی طرف سے بھی ادا شدہ صدقہ کی رسید ان کی جیب میں موجود تھی۔فائرنگ کے دوران اشرف بلال صاحب جو شدید زخمی ہو گئے، جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں، ان کو بچانے کے لئے ان کے اوپر لیٹ گئے۔اسی