خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 326 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 326

خطبات مسرور جلد ہشتم 326 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جون 2010 دوران موصوف ہال کے اندر داخل ہو کر پہلی صف میں بیٹھ گئے۔اس دوران دروازہ بند کرنے کی کوشش کے دوران دہشتگرد نے بندوق کی نالی دروازے میں پھنسالی اور فائرنگ کرتا رہا۔پہلی گولی آپ کے سر میں لگی جس سے موقع پر ہی شہادت ہو گئی۔قریبا دس سال قبل آپ نے خواب میں دیکھا تھا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر کے ساتھ ایک قبر تیار کی گئی ہے ، پوچھنے پر بتایا کہ یہ آپ کی قبر ہے۔شہادت کے بعد یہ تعبیر بھی سمجھ میں آئی کہ وہ واقعہ میں آپ کی قبر تھی کیونکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسل میں سے تھے اور شہادت بھی دونوں کی قدر مشترک ہے۔شہادت کے بعد ان کی بیٹی نے خواب میں دیکھا کہ والد صاحب شہید خواب میں آئے ہیں اور کہتے ہیں کہ میرا کمرہ (جو گھر کا کمرہ تھا) سیٹ کر دو تو خادم نے ٹھیک کر دیا۔اور کہتی ہیں کہ کچھ دیر بعد کچھ مہمان آئے اور انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ ہم نے کمرہ دیکھنا ہے۔شہید مرحوم کے بیٹے مکرم نورالامین واصف صاحب بتاتے ہیں کہ جب والد صاحب شہید کے نکاح کا مرحلہ پیش ہوا تو بعض لوگوں نے ان کا تعلق غیر مبائعین سے قائم کرنے کی کوشش کی کہ یہ غیر مبائعین ہیں یعنی خلافت کی بیعت نہیں کی۔جس پر معاملہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ کے پاس پہنچا تو حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے بڑی شفقت سے فرمایا کہ ان کو تجدید بیعت کی کیا ضرورت ہے یہ تو اس شخص کے پوتے ہیں جس نے سب سے پہلے بیعت کی تھی اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بہت ہی پیارا تھا۔اس پر حضرت مولانا ابوالعطاء جالندھری صاحب نے ان کا نکاح پڑھایا۔آپ کے ایک عزیز نے آپ کی خوبیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ شہید مرحوم میں حسن سلوک، غریبوں کی مدد کرنا، مہمان نوازی، بیماروں کی تیمار داری کرنے کی خوبیاں نمایاں تھیں۔شہید مر حوم کو سندھ قیام کے دوران متعدد ضرور تمند بچیوں کی شادی کروانے اور ضرور تمند بچوں کے تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کی بھی توفیق ملی۔مہمان نوازی کی صفت تو آپ میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔اگر کوئی مہمان آجاتا اپنے گھر سے بغیر کھانا کھلائے اس کو جانے نہیں دیتے تھے۔باقاعدہ تہجد گزار تھے۔مکرم ڈاکٹر طارق بشیر صاحب اگلا ذکر ہے مکرم ڈاکٹر طارق بشیر صاحب شہید ابن مکرم چوہدری یوسف خان صاحب کا۔شہید مرحوم کے والد شکر گڑھ کے رہنے والے تھے اور والد صاحب نے بیعت کر کے جماعت میں شمولیت اختیار کی تھی۔اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے ارشاد پر زمینوں کی نگرانی کے لئے سندھ چلے گئے۔کراچی قیام کیا۔شہید مرحوم کی پیدائش کراچی میں ہوئی۔تاہم بعد میں یہ خاندان شکر گڑھ آگیا۔ابتدائی تعلیم کے بعد شہید مرحوم لاہور آگئے