خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 16 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 16

خطبات مسرور جلد ہشتم 16 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 جنوری 2010 پاکستان میں ہی دیا جاتا تھا۔باہر کے ممالک اپنی خوشی سے اگر دے دیتے تھے تو ٹھیک تھا۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا ضروریات بڑھنے پر خلفاء تحریکات کرتے رہے۔چنانچہ تبلیغ کے جو اخراجات تھے ان کو دیکھتے ہوئے اور خاص طور پر افریقہ اور ہندوستان کے بعض علاقوں میں کام کو وسعت دینے کے لئے بعد میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے پاکستان سے باہر بھی اس تحریک کو عام کرنے کا اعلان فرمایا اور جماعتیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑھ چڑھ کر اس میں حصہ لینے لگیں۔(ماخوذ از خطبه جمعه فرمودہ 27 دسمبر 1985ء بحوالہ خطبات وقف جدید صفحہ 297 ایڈیشن اول 2008 ناشر نظامت ارشاد وقف جدید، مطبوعه ربوه) مالی قربانی کی لگن جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہر سال وقف جدید کے نئے سال کا جنوری میں اعلان ہوتا ہے اور اس موقع پر وقف جدید کی مالی قربانی کا ذکر ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا جماعت پر یہ احسان ہے کہ احباب میں مالی قربانی میں بڑھنے کی ایک خاص لگن پیدا کر دی گئی ہے، ایک جوت لگا دی گئی ہے۔اس کام کے لئے جوت جگاتا چلا جاتا ہے۔احباب جماعت مالی قربانی کے مطلب کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں جس کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے اور جس کا ا قرآن شریف میں اور بھی کئی جگہ ذکر آیا ہے۔ایک حقیقی مومن پر مالی قربانی کی حقیقت کھول کر واضح کی گئی ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اس کا ترجمہ یہ ہے کہ کون ہے جو اللہ کو قرضہ حسنہ دے تاکہ وہ اس کے لئے اسے کئی گنا بڑھائے اور اللہ ( رزق) قبض بھی کر لیتا ہے ( اسے روک بھی لیتا ہے) اور کھول بھی دیتا ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مختلف لغات سے لفظ يُقْرِضُ پر بحث کی ہے اور مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا کے معنی اس طرح کئے ہیں کہ ”کون ہے جو اپنے مال کے ایک حصے کا ٹکڑا اللہ تعالیٰ کی راہ میں دے اور دوسرے یہ کہ اور کون ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کرے ایسی صورت میں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس کی جزا کی امید رکھے۔“ ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ 550 مطبوعہ ربوہ) پس دنیاوی حکومتوں کے کام چلانے کے لئے جو چندہ یا ٹیکس لیا جاتا ہے وہ تو صرف مال تک محدود ہے اور دنیاوی منصوبہ بندی کر کے صرف قوم اور ملک کی بہتری کے لئے، عوام کی عمومی اخلاقی حالت کے درست کرنے کے لئے انتظام کئے جاتے ہیں۔ان کی اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ پیدا کرنے کے لئے اس میں کوئی منصوبہ بندی نہیں ہوتی۔لیکن مذہبی اور دینی جماعتوں کی ضروریات کے لئے جو اللہ