خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 300 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 300

خطبات مسرور جلد ہشتم 300 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 جون 2010 گیا ہو اور وہ حالات کا بغور مطالعہ کر رہے ہوں۔اسی بھیڑ چال میں چند اور لوگوں نے بھی ان سے کہا کہ اٹھ جائیں لیکن وہ نہیں اٹھے۔اسی دوران اس دہشتگرد نے گولیوں کا رخ کرسیوں کی طرف کر دیا اور فائرنگ کرتا ہوا اباجی کے دہم نزدیک ہوتا گیا۔بقول کرنل بشیر احمد باجوہ صاحب (جو کرسیوں کے پیچھے تھے ) ان پر بھی فائر ہوئے لیکن وہ بچ گئے۔وہ کہتے ہیں کہ اس دوران یہ زخمی ہو چکے تھے۔وہ دہشتگرد سمجھا کہ میر اکام ختم ہو گیا ہے۔فارغ ہو کر مڑا اور شاید اپنی گن لوڈ کرنے لگا۔تو کہتی ہیں کہ کرنل صاحب نے بتایا کہ اسی دوران میرے ابا جی نے زخمی ہونے کے باوجود موقع غنیمت جانا اور پیچھے سے ایک دم چھلانگ لگا کر اس کی گردن پکڑ لی۔یقیناً کوئی خاص طاقت تھی جو ان کی مدد کر رہی تھی کر نل بشیر صاحب نے جو کرسیوں کے پیچھے تھے انہوں نے بھی فوراً چھلانگ لگائی اور دہشتگرد کو قابو کرنے لگے۔وسیم صاحب کا بیان ہے کہ ہم سیڑھیوں سے چند step ہی نیچے تھے اور دیکھ رہے تھے۔جب دیکھا کہ دہشتگرد قابو میں آرہا ہے تو دوسرے خدام بھی اس دوران میں مدد کے لئے آگئے اور اس ہاتھا پائی کے دوران ان کے بقول ان کو گولیاں لگ چکی تھیں۔لیکن اس سے پہلے بھی لگ چکی تھیں۔اور ایک ہتھیلی سے بھی پار ہوئی، دوسری بازو میں کلائی کے پاس لگی۔اور تیسری پسلیوں میں پیٹ کے ایک طرف۔پہلے کم زخمی تھے ، اس ہاتھا پائی میں مزید گولیاں بھی لگیں۔بہر حال ان کی اس ابتدائی کوشش کے بعد کرنل بشیر اور باقی نمازی شامل ہوئے اور اس دہشتگرد کی جیکٹ کو (Defuse) کر دیا اور اس کے ہاتھ پاؤں باندھ دیئے۔دیکھنے والے بتاتے ہیں کہ عمر کے اس حصے میں بھی گولیاں لگنے کے باوجود آپ کا دماغ صحیح کام کر رہا تھا۔اور جیکٹ کو ڈ فیوژ (Defuse) کرنے کے بارے میں بھی وہی ہدایت دیتے تھے۔کیونکہ ان کا یہی کام تھا، بم ڈسپوزل میں کام کرتے رہے ہیں۔اور دیکھنے والے مزید کہتے ہیں کہ اس وقت ان کی حالت دیکھ کر ہماری بری حالت ہو رہی تھی لیکن ایک دفعہ بھی انہوں نے ہائے نہیں کی اور بڑے آرام سے اپنی جان جان آفرین کے سپر د کر دی اور شہادت کار تبہ پایا۔مکرم الیاس احمد اسلم قریشی صاحب الیاس احمد اسلم قریشی صاحب شہید والد مکرم ماسٹر محمد شفیع اسلم صاحب۔شہید مرحوم کے خاندان کا تعلق قادیان سے تھا۔پھر گوجر انوالہ شفٹ ہو گئے۔آپ کے والد محترم مبلغ سلسلہ تھے۔تحریک شدھی کے دوران انہوں نے نمایاں خدمات سرانجام دیں۔ان کے بھائی یونس احمد اسلم صاحب 313 درویشان قادیان میں سے تھے۔گریجوایشن کے بعد نیشنل بنک جوائن کیا۔اور اے وی پی کے اسسٹنٹ وائس پریذیڈنٹ کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 76 سال تھی۔اللہ کے فضل سے وصیت کے نظام میں شامل تھے۔اور بطور صدر جماعت جو ہر ٹاؤن خدمات سر انجام دے رہے تھے۔بیت النور میں ان کی شہادت ہوئی پچھلے ہال میں پہلی صف میں بیٹھے تھے۔دیگر دو ساتھیوں کے ساتھ ہال کا دروازہ بند رکھنے کی کوشش کے دوران حملہ آوروں کی فائرنگ سے شدید زخمی ہو گئے اور زخمی حالت میں کئی گھنٹے پڑے رہے۔چار بجے کے قریب یہ شہید ہوئے ہیں۔ان