خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 287
خطبات مسرور جلد ہشتم 287 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 جون 2010 ان لوگوں کو مسجد پہنچاتے تھے جن کے پاس کوئی سواری نہ ہوتی تھی اور دوسرے چکر میں ہم سب گھر والوں کو مسجد لے کر جاتے تھے۔شہادت سے ایک ہفتہ قبل خود خواب دیکھا۔خواب میں مجھے دیکھا کہ میں نے ان کی کمر پر تھپکی دی اور کہا کہ فکر نہ کرو سب اچھا ہو جائے گا۔اللہ کرے کہ یہ قربانیاں جماعت کے لئے مزید فتوحات کا پیش خیمہ ہوں۔اللہ تعالیٰ جماعت کو خوشیاں دکھائے۔مکرم عمیر احمد ملک صاحب عمیر احمد ملک صاحب شہید ابن ملک عبد الرحیم صاحب۔حضرت حافظ نبی بخش صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام شہید مرحوم کے پردادا تھے۔یہ لوگ قادیان کے قریب فیض اللہ چک کے رہنے والے تھے۔ان کے دادا ملک حبیب الرحمن صاحب جامعہ احمدیہ میں انگلش پڑھانے کے علاوہ سکول اور کالج وغیرہ میں بھی پڑھاتے رہے ہیں۔ٹی آئی سکول کے ہیڈ ماسٹر بھی رہے۔حکیم فضل الرحمن صاحب مبلغ سلسلہ گولڈ کوسٹ، شہید مرحوم کے والد مکرم عبد الرحیم صاحب کے تایا تھے۔شہید مرحوم خدام الاحمدیہ کے بہت ہی فعال رکن تھے۔سات سال سے ناظم اشاعت ضلع لاہور کے طور پر خدمات سر انجام دے رہے تھے۔اور AACP جو جماعت کی کمپیوٹر پروفیشنلز کی ایسوسی ایشن ہے، اس کے آڈیٹر رہے۔تین سال سے یہ لاہور چیپٹر کے صدر بھی تھے۔نیز ان کی والدہ بھی بطور صدر لجنہ اماءاللہ حلقہ فیصل ٹاؤن خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔نظامِ وصیت میں شامل تھے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 36 سال تھی۔مسجد ماڈل ٹاؤن میں گولیاں لگیں، زخمی حالت میں جناح ہسپتال پہنچ کر جام شہادت نوش فرمایا۔جمعہ کے روز خلافِ معمول نیا سفید جوڑا پہن کر گھر سے نکلے اور والد صاحب نے کہا کہ آج بڑے خوبصورت لگ رہے ہو۔دفتر کے ملازم نے بھی یہی کہا۔مسجد بیت نور میں خلافِ معمول پہلی صف میں بیٹھے۔دہشت گرد کی گولی لگنے سے ہال کے اندر دوسری صف میں الٹے لیٹے رہے۔فون پر اپنے والد سے باتیں کرتے رہے۔وہ بھی وہیں تھے اور کہا کہ اللہ حافظ ، میں جارہا ہوں اور مجھے معاف کر دیں۔اپنے بھائی کے بارے میں پوچھا اور پانی مانگا۔ڈائٹس سے اٹھا کر ایک کارکن نے ان کو پانی دیا۔آواز بہت ضعیف اور کمزور ہو گئی تھی۔بہر حال ایمبولینس کے ذریعے ان کو ہسپتال لے جایا گیا۔بلڈ پریشر بھی نیچے گرتا چلا جارہا تھا۔جب ہسپتال پہنچے ہیں تو وہاں والدہ کو آنکھیں کھول کر دیکھا اور والدہ سے پانی مانگا۔والدہ جب چہرے پر ہاتھ پھیر رہی تھیں تو ان کی انگلی پر کاٹا صرف یہ بتانے کے لئے کہ میں زندہ ہوں اور پریشان نہ ہوں۔اندرونی کوئی انجری (Injury) تھی جس کی وجہ سے بلیڈنگ ہو رہی تھی۔اور آپریشن کے دوران ہی ان کو شہادت کا رتبہ ملا۔ان کے اچھے تعلقات تھے۔واپڈا کے کنٹریکٹر تھے ، کنسٹرکشن کے ٹھیکے لیتے تھے۔خدمت خلق کا بہت شوق اور جذبہ تھا شہادت پر آنے