خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 272
خطبات مسرور جلد ہشتم 272 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 جون 2010 راست رہنمائی لینی چاہتے ہوں تو بے شک لے لیا کریں اور بے شک مجھ سے رابطہ رکھیں۔ایک دن ان کا فون آیا تو میں نے کہا کہ خیر ہے ؟ تو کہنے لگے کہ اس اجازت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جو آپ نے دی ہے میں نے کہا فون کر لوں اور اگر کوئی ہدایت ہو تو لے لوں۔باقی کام تو صحیح چل رہے ہیں۔اور آپ سے سلام بھی کر لوں۔تو بڑے منجھے ہوئے شخص تھے۔سب جو کارکنان تھے ، ان کے ساتھ کام کرنے والے ان کو ساتھ لے کر چلنے والے تھے۔لجنہ ضلع لاہور کی صدر نے مجھے بتایا کہ جب یہ مقرر ہوئے ہیں تو ہمیں خیال تھا کہ یہ کسی شخص کو آپ نے امیر جماعت مقرر کر دیا ہے جس کو زیادہ تر لوگ جانتے بھی نہیں۔لیکن ان کے ساتھ کام کرنے سے پتہ چلا کہ یقیناً انہوں نے اپنی ذمہ داری کا حق ادا کر دیا اور بڑے پیار سے ساروں کو ساتھ لے کر چلے۔بے شمار خصوصیات کے حامل تھے۔اللہ تعالیٰ اپنے پیاروں میں ان کو جگہ دے۔میجر جنرل ریٹائرڈ ناصر چوہدری صاحب دوسرے شہید میجر جنرل ریٹائرڈ ناصر چوہدری صاحب ابن مکرم چوہدری صفدر علی صاحب ہیں۔یہ بہلول پور تحصیل پسر در ضلع سیالکوٹ کے رہنے والے تھے۔ان کے والد صاحب انسپکٹر تھے اور 1930ء میں ڈیوٹی کے دوران ہی وہ بھی شہید ہوئے تھے۔اس وقت جنرل صاحب شہید کی عمر صرف 10 سال تھی۔جنرل صاحب کی دادی جو تھیں وہ حضرت چوہدری سر ظفر اللہ خان صاحب کی رضاعی والدہ بھی تھیں۔1942ء میں ان کو کمیشن ملا، بنگلور گئے۔اور دوسری جنگ عظیم میں برما کے فرنٹیئر فورس محاذ پر تھے۔43ء میں ان کا نکاح ہوا اور سید سرور شاہ صاحب نے ان کا نکاح پڑھا۔اور اس بات کا اظہار کیا کرتے تھے کہ میرے نکاح میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت مرزا شریف احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شامل ہوئے تھے۔بہر حال فوج میں ترقی کرتے رہے اور 1971ء میں راجستھان میں اپنی بنائی ہوئی 33- Div کی کمانڈ کرتے رہے۔وہیں ان کے گھٹنے میں گولی لگی جو ان کے جسم کے اندر ہی رہی ہے۔ڈاکٹر اس کو نکال نہیں سکے۔اس حملے کے دوران میں ان کا جو پرسنل سیکرٹری تھا وہ بھی زخمی ہوا۔اس کو تو انہوں نے ہیلی کاپٹر کے ذریعہ سے حیدرآباد بھیجا اور خود ٹرین کے ذریعے حیدر آباد پہنچے۔ڈاکٹر کہا کرتے تھے کہ اگر یہ دوبارہ چلنے لگ جائیں تو معجزہ ہو گا۔اس لئے گولی بھی نہیں نکالی کہ خطرہ تھا کہ مزید خرابی پیدا ہو جائے گی۔لیکن بہر حال بڑی قوت ارادی کے مالک تھے۔ورزش کرتے رہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی ٹانگ اس قابل ہو گئی کہ چلتے تھے اور اپنی کیٹیگری اے کر والی کیونکہ بی میں نوکر مل جاتا ہے۔ہمیں سال تک یہ سیکر ٹری اصلاح و ارشاد ضلع لاہور رہے ہیں۔1987ء سے لے کر شہادت کے وقت تک بطور صدر حلقہ ماڈل ٹاؤن خدمت سر انجام دیتے رہے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 91 سال تھی۔اللہ کے فضل سے موصی تھے۔مسجد ماڈل ٹاؤن میں ان کی شہادت ہوئی ہے۔