خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 271 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 271

خطبات مسرور جلد ہشتم 271 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جون 2010 غیر احمدیوں کے ایک بڑے عالم ہیں اور جمعیت علمائے پاکستان کے کسی اعلیٰ عہدے پر ، بڑے عہدے پر قائم ہیں ان کو ہم نے ملنے جانا ہے۔تو کہتے ہیں میں بڑا حیران ہوا کہ کیا ضرورت، مصیبت پڑ گئی ہے ان کو ملنے کی؟ خیر ، کہتے ہیں میں مربی صاحب ضلع کے ساتھ چلا گیا۔سبزہ زار میں جمیعت کا سیکریٹریٹ ہے تو وہاں جب ہم پہنچے ہیں تو ان صاحب سے تعارف ہوا۔یہ ہمارے شدید ترین مخالف لوگ ہیں۔ان صاحب نے جو جمیعت علماء پاکستان کے سیکرٹری تھے انہوں نے کہا کہ مجھ پر کسٹم والوں نے ایک سراسر غلط مقد مہ بنا دیا ہے۔جو جج ہے وہ نہایت عجیب و غریب قسم کا انسان ہے۔میں تین پیشیاں بھگت چکا ہوں۔جب بھی میں عدالت میں آتا ہوں تو کرسی پر بیٹھتے ہی میز پر ایک زور دار مکا مارتا ہے اور کہتا ہے کہ Listen every body کہ میں احمد کی ہوں، اب مقدمہ کی کارروائی شروع کرو۔تو یہ صاحب کہتے ہیں کہ میری تو آدھی جان وہیں نکل جاتی ہے جب یہ دھمکی دیتے ہیں۔مجھے یہ خیال ہے کہ یہ مجھے پیغام دیتے ہیں کہ بچو! اب تم میرے قابو میں آئے ہو، اب میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں۔تو آپ لوگ خدا کے واسطے میری کوئی مدد کریں اور میری اس سے جان چھڑوائیں۔مجھے لگتا ہے کہ مذہبی مخالفت کی بنا پر مجھے سزا دے دے گا۔پھر بولے: عجیب قسم کا آدمی ہے۔یہ کوئی زمانہ ہے ، یہ حالات ہیں؟ کہ یہ صاحب آتے ہیں اور میز پر مگامار کے اپنے احمدی ہونے کا اعلان کرتے ہیں اور میرے پسینے چھوٹ جاتے ہیں۔مربی صاحب کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا کہ آپ غلطی پر ہیں۔آپ نے ان کے پیغام کو نہیں سمجھا۔وہ میز پر مکا مار کے یہ کہتے ہیں کہ ہر ایک سن لو، میں احمدی ہوں۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ آپ کو دھمکاتے ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ سنو اور غور سے سنو کہ میں احمدی ہوں۔نہ میں رشوت لیتا ہوں ، نہ ہی میں کسی کی سفارش سنوں گا اور نہ ہی میرے فیصلے کسی تعصب کے زیر اثر ہوتے ہیں۔میں صرف خدا سے ڈرتا ہوں۔مربی صاحب نے کہا یہ ہے ان کا اصل مطلب۔اس لئے ہم پر تو آپ رحم کریں اور ہمیں کسی سفارش پر مجبور نہ کریں اور نہ ہی ہم ایسا کریں گے۔تو کہتے ہیں بہر حال وہ صاحب بڑے پریشان تھے کہ اگر اس نے مجھے ٹانگ دیا تو پھر کیا ہو گا؟ تو میں نے کہا آپ کے کہنے کے مطابق اگر آپ بے قصور ہیں تو آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ صرف مذہبی اختلافات کی بنیاد پر آپ کو سزا نہیں دیں گے۔اس کے بعد ان کے ہاں سے چلے آئے۔پانچ چھ مہینے کے بعد ان کے پی اے (P۔A) کا فون آیا اور اطلاع دی کہ وہ باعزت طور پر بری ہو گئے ہیں اور ہمارے وہ عالم صاحب جو لیڈر ہیں جمیعت علمائے اسلام کے آپ لوگوں کا شکریہ ادا کر رہے ہیں۔میں نے عرض کیا کہ ان سے کہیں کہ ہمارا شکریہ ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔شکریہ ادا کریں اس امام مہدی آخر الزمان کا، جس کی تعلیمات اور قوت قدسیہ کے فیض نے ایسی جماعت پیدا کر دی ہے جو ان اخلاق کو زندہ کرنے والی ہے جو آج دنیا سے ناپید ہیں۔تو یہ تھا ان کے انصاف کا معیار۔اور بڑے دبنگ ، جرآت والے انسان تھے۔گزشتہ سال جب میں نے ان کو امیر جماعت لاہور مقرر کیا ہے تو انہیں لکھا کہ اگر کوئی مشکل ہو براہِ