خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 270
خطبات مسرور جلد ہشتم 270 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جون 2010 بچوں کا ہمیشہ بہت خیال رکھتے تھے۔یہ کہا کرتے تھے کہ میں تو ایک غریب سٹیشن ماسٹر کا بیٹا ہوں اور تم لوگوں کی ضروریات کا ، بچوں کا خیال مجھے اس لئے رکھنا پڑتا ہے کہ یہ اپنے آپ کو سیشن جج کے بچے سمجھتے ہیں۔وصیت کے نظام میں بھی شامل تھے۔اور جیسا کہ میں نے کہا دارالذکر میں ان کی شہادت ہوئی ہے۔شہادت سے ایک دن قبل ان کی بہن نے لجنہ اماء اللہ کو وصایا کے حوالہ سے ذکر کیا اور یہ بھی کہا کہ وصیت بھی جنت کے حصول کا ذریعہ ہے اور گھر آکر شیخ صاحب سے جب بات کی کہ کیا میں نے ٹھیک کہا ہے ؟ تو انہوں نے کہا یہ ٹھیک ہے۔لیکن اپنی بہن کو کہا کہ آپا! اصل جنت کی ضمانت تو شہادت سے ملتی ہے۔اہلیہ محترمہ کہتی ہیں کہ شہادت سے قبل شہید مرحوم کا فون آیا کہ میرے سر اور ٹانگ پر چوٹ آئی ہے اور بلند آواز سے کہا کہ میں ٹھیک ہوں۔خدام نے ان کو نیچے کی طرف یعنی basement میں جانے کے لئے کہا تو انہوں نے انکار کر دیا۔اور جب فائرنگ شروع ہوئی ہے تو کھڑے ہو کر دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر لوگوں کو کہا کہ بیٹھ جائیں اور درود شریف پڑھیں اور دعائیں کریں۔اپنا فون ان کے پاس نہیں تھا، ایک خادم سے فون لیا گھر بھی فون کیا، پولیس کو بھی فون کیا۔پولیس نے جواب دیا کہ ہم آگئے ہیں تو بڑے غصے سے پھر ان کو کہا کہ پھر اندر کیوں نہیں آتے؟ ایک خادم جس نے فون دیا تھا ان کے مطابق آخری آواز ان کی اس نے یہ سنی تھی کہ اَشْهَدُ أَنْ لا إِلهَ إِلَّا اللهُ ان کی اہلیہ کہتی ہیں کہ نماز جمعہ پر جانے سے پہلے چندہ کی رقم مجھے پکڑائی اور کہا کہ اپنے پاس رکھ لو۔کیونکہ آج تک پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا تو میں نے کہا کہ جہاں آپ پہلے رکھتے تھے وہیں رکھ دیں۔انہوں نے کہا کہ نہیں آج تم رکھ لو کیونکہ دفتر بند ہو گا اس لئے جمع نہیں کروا سکتا۔اسی طرح ایک کیس کے بارے میں مجھے بتایا۔اہلیہ سے کہا کہ وہ آگے چلا گیا ہے ، اس کی تاریخ آگے پڑگئی ہے اور یہ کیس کے پیسے ہیں، یہ اپنے پاس رکھ لو اور کیس والے فریق کو دے دینا اور اس کی فائل بھی۔اہلیہ کہتی ہیں کہ حالانکہ پہلے میرے سے کبھی آج تک انہوں نے کوئی کیس ڈسکس (Discuss) نہیں کیا۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں دو دفعہ اس خواہش کا اظہار کیا کہ ریٹائر منٹ کے بعد یا بلکہ پہلے ہی میرا وقف قبول کریں۔حضور نے ان کو یہی فرمایا تھا کہ جہاں آپ کام کر رہے ہیں وہیں کام کریں کیونکہ اس کے ذریعہ سے احمدیت کی تبلیغ زیادہ موثر رنگ میں ہو رہی ہے۔لوگوں کو پتہ لگے کہ احمدی افسر کیسے ہوتے ہیں۔ان کے ایک بیٹے نے بتایا کہ میں نے ان سے کہا کہ اپنا کوئی سکیورٹی گارڈرکھ لیں۔کہنے لگے کیا ہو گا؟ مجھے گولی مار دیں گے تو شہید ہو جاؤں گا۔ہمارے سلسلہ کے ایک مبلغ ہیں مبشر مجید صاحب انہوں نے ان کے بارے میں ایک واقعہ لکھا ہے۔یہ گلبرگ لاہور میں مربی ہوتے تھے کہتے ہیں کہ 97ء یا 98ء کی بات ہے کہ مجھے ایک دن مربی ضلع کا فون آیا کہ