خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 269 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 269

خطبات مسرور جلد هشتم 269 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جون 2010 مکرم منیر احمد شیخ صاحب آج سب سے پہلے میں مکرم منیر احمد شیخ صاحب کا ذکر کروں گاجو دارالذکر میں شہید ہوئے تھے اور امیر ضلع لاہور تھے۔ان کے والد صاحب مکرم شیخ تاج دین صاحب سٹیشن ماسٹر تھے اور ان کے والد نے 1927ء میں احمدیت قبول کی تھی۔جالندھر کے رہنے والے تھے۔ملک سیف الرحمن صاحب مرحوم سے ان کی دوستی تھی اور یہ دونوں پہلے احمدیت کے بہت زیادہ مخالف تھے۔یعنی شیخ صاحب کے والد اور حضرت مفتی ملک سیف الرحمن صاحب۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب دیکھیں اور آنحضور صلی علی یم کے شان میں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اشعار پڑھے تو پھر ان کو جستجو پیدا ہوئی اور چند کتابیں پڑھنے کے بعد ان دونوں بزرگوں کے دل صاف ہو گئے۔بہر حال مکرم شیخ منیر احمد صاحب، شیخ تاج دین صاحب کے بیٹے تھے۔ان کی تعلیم ایل ایل بی تھی۔تعلیم حاصل کرنے کے بعد یہ سول حج بنے۔پھر مختلف جگہوں پر ان کی پوسٹنگ ہوتی رہی، اور پھر سیشن جج سے ترقی ہوئی اور پھر لاہور میں سپیشل جج اینٹی کرپشن پر ان کی تعیناتی ہوئی۔پھر پیشل جج کسٹم کے طور پر کام کیا۔اور ٹیب (NAB) کے حج کے طور پر بھی کام کرتے رہے اور 2000ء میں یہ ریٹائر ہوئے۔موصوف شیخ صاحب کے انصاف کی ہر جگہ شہرت تھی۔جن کا بھی ان سے واسطہ پڑتا تھا ان کو پتہ تھا کہ یہ انصاف پسند آدمی ہیں اور انہیں کبھی کسی قسم کا خوف نہیں ہوتا تھا۔راولپنڈی میں ایک کیس کے دوران دونوں پارٹیوں میں سے ایک پارٹی جو لاہوری احمدی ہیں ان کی خواتین تھیں۔ان کے وکیل مجیب الرحمن صاحب تھے۔اور دوسرا فریق جو تھا، دوسری پارٹی ایک مولویوں کی پارٹی تھی۔تو کورٹ میں آکے انہوں نے پہلے ہی بتادیا کہ میں احمدی ہوں اگر کسی کو کوئی اعتراض ہے تو بتائیں۔جو دوسرا گروپ مولویوں کا تھا، ان کا مقدمہ احمدی پیغامیوں کے ساتھ تھا۔لیکن انہوں نے کہا کہ ہمیں قبول ہے ہم آپ سے ہی فیصلہ کروانا چاہتے ہیں۔جو پیغامی فریق تھا ان کے وکیل مجیب الرحمن صاحب احمدی تھے۔تو وہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ خوف ہو تا تھا کہ کہیں آپ اپنی انصاف پسندی کا اظہار کرنے کے لئے ہمارے خلاف فیصلہ نہ کر دیں۔لیکن انہوں نے انصاف کو ہمیشہ ملحوظ رکھا اور انصاف کی بنیاد پر ہی فیصلہ کیا اور ان خواتین کے حق میں کر دیا اور مولویوں کے خلاف ہوا۔ان کا علم بھی بڑا وسیع تھا۔بڑے دلیر تھے۔قوتِ فیصلہ بہت تھی۔ملازموں اور غریبوں سے بڑی ہمدردی کیا کرتے تھے۔درویش صفت انسان تھے۔جب بھی میں ان کو ملا ہوں جہاں تک میں نے دیکھا ہے ان کی طبیعت میں بڑی سادگی تھی۔فضل عمر فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر بھی تھے۔اس کے علاوہ شروع میں ماڈل ٹاؤن حلقہ میں زعیم اعلیٰ کے طور پر بھی خدمات رہی ہیں۔گارڈن ٹاؤن حلقہ کے صدر بھی رہے۔ان کی اہلیہ کہتی ہیں کہ ہمارا اور