خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 268
خطبات مسرور جلد ہشتم 268 24 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جون 2010 خطبہ جمعہ فرمودہ 11 جون 2010ء بمطابق 11 احسان 1389 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: آج میں ان شہداء کا ذکر کروں گا جو لاہور میں جمعہ کے دوران دہشت گردوں کے ظلم اور سفاکی کا نشانہ بنے تھے۔جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبہ میں بھی کہا تھا کہ موت کو سامنے دیکھ کر بھی وہاں موجود ہر احمدی نے کسی خوف کا اظہار نہیں کیا۔نہ ہی دہشت گردوں کے آگے ہاتھ جوڑے ، نہ زندگی کی بھیک مانگی، بلکہ دعاؤں میں مصروف رہے اور ایک دوسرے کو بچانے کی کوشش میں مصروف رہے۔یہ کوشش تو رہی کہ اپنی جان دے کر دوسرے کو بچائیں لیکن یہ نہیں کہ ادھر اُدھر panic ہو کر دوڑ جائیں۔اور ان دعاؤں سے ہی گولیوں کی بوچھاڑ کرنے والوں کا مقابلہ کیا جو ظالمانہ طریقے پر گولیاں چلا رہے تھے۔ان دعائیں کرنے والوں میں کچھ مومنین کو اللہ تعالیٰ نے شہادت کار تبہ عطا فرمایا اور یہ رتبہ پا کر ان کو خدا تعالیٰ نے دائمی زندگی عطا فرما دی اور یہ سب لوگ جو ہیں یہ احمدیت کی تاریخ میں انشاء اللہ تعالیٰ ہمیشہ روشن ستاروں کی طرح چمکتے رہیں گے۔اللہ تعالیٰ ان سب کے درجات بلند سے بلند تر کرتا چلا جائے۔بہر حال شہداء کا ذکر میں کرنا چاہتا ہوں۔ان کے ذکر خیر سے پہلے ایک ضروری امر کی وضاحت بھی کرنا چاہتا ہوں۔مجھ سے بعض جماعتوں کی طرف سے بھی پوچھا جا رہا ہے کہ شہداء فنڈ میں لوگ کچھ دینا چاہتے ہیں تو یہ رقم کس مد میں دینی ہے؟ اسی طرح بعض دوست مشورے بھی بھجوا رہے ہیں کہ شہداء کے لئے کوئی فنڈ قائم ہو نا چاہئے۔یہ ان کی لاعلمی ہے۔شہداء کے لئے فنڈ تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے خلافت رابعہ سے قائم ہے جو سید نابلال فنڈ“ کے نام سے ہے اور میں بھی اپنے اس دور میں ایک عید کے موقع پر اور خطبوں میں دو دفعہ بڑی واضح طور پر اس کی تحریک کر چکا ہوں۔اس فنڈ سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے شہداء کی فیملیوں کا خیال رکھا جاتا ہے ، جن جن کو ضرورت ہو ان کی ضروریات پوری کی جاتی ہیں اور اگر اس فنڈ میں کوئی گنجائش نہ بھی ہو تب بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ ان کا حق ہے اور جماعت کا فرض ہے کہ ان کا خیال رکھے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیشہ ہم ان کا خیال رکھتے رہیں گے۔تو بہر حال ”سیدنا بلال فنڈ“ قائم ہے جو لوگ شہداء کی فیملیوں کے لئے کچھ دینا چاہتے ہوں اس میں دے سکتے ہیں۔