خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 263 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 263

خطبات مسرور جلد ہشتم 263 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 جون 2010 تھے پوچھا کہ چچا جان! آپ کے کون فوت ہوئے ہیں ؟ فرمایا میرا بیٹا شہید ہو گیا ہے۔لکھنے والے کہتے ہیں کہ میر ادل دہل رہا تھا اور پر عزم چہرہ دیکھ کر ابھی میں منہ سے کچھ بول نہ پایا تھا کہ انہوں نے پھر فرمایا کہ الحمد للہ ! خدا کو یہی منظور تھا۔لکھنے والے کہتے ہیں کہ میرے چاروں طرف پر عزم چہرے تھے اور میں اپنے آپ کو سنبھال رہا تھا کہ ان کوہ و قار ہستیوں کے سامنے کوئی ایسی حرکت نہ کروں کہ خود مجھے شرمندگی اٹھانی پڑے۔کہتے ہیں کہ میں مختلف لوگوں سے ملتا اور ہر بار ایک نئی کیفیت سے گزرتا رہا۔خون میں نہائے ایک شہید کے پاس کھڑا تھا کہ آواز آئی میرے شہید کو دیکھ لیں۔اس طرح کے بے شمار جذبات احساسات ہیں۔ایک خاتون لکھتی ہیں کہ میرے چھوٹے بچے بھی جمعہ پڑھنے گئے تھے اور خدا نے انہیں اپنے فضل سے بچا لیا۔جب مسجد میں خون خرابہ ہور ہا تھا تو ہماری ہمسائیاں ٹی وی پر دیکھ کر بھاگی آئیں کہ رو دھو رہی ہو گی۔یعنی میرے پاس آئیں کہ رو دھو رہی ہوں گی کیونکہ مسجد کے ساتھ ان کا گھر تھا۔لیکن میں نے ان سے کہا کہ ہمارا معاملہ تو خدا کے ساتھ تھا۔مجھے بچوں کی کیا فکر ہے؟ ادھر تو سارے ہی ہمارے اپنے ہیں۔اگر میرے بچے شہید ہو گئے تو خدا کے حضور مقرب ہوں گے اور اگر بچ گئے تو غازی ہوں گے۔یہ سن کر عورتیں حیران رہ گئیں اور الٹے پاؤں واپس چلی گئیں کہ یہ کیسی باتیں کر رہی ہے؟ اور پھر آگے لکھتی ہیں کہ اس نازک موقع پر ربوہ والوں نے جو خدمت کی اور دکھی دلوں کے ساتھ دن رات کام کیا اس پر ہم سب آپ کے اور ان کے شکر گزار ہیں۔ایک ماں کا اٹھارہ سال کا اکلوتا بیٹا تھا۔ایک لڑکا تھا باقی لڑکیاں ہیں۔میڈیکل کالج میں پڑھتا تھا۔شہید ہو گیا اور انتہائی صبر اور رضا کا ماں باپ نے اظہار کیا اور یہ کہا کہ ہم بھی جماعت کی خاطر قربان ہونے کے لئے تیار ہیں۔مسلم الدروبی صاحب سیریا کے ہیں وہ بھی ان دنوں میں وہاں گئے ہوئے تھے۔اور ان کو بھی ٹانگ پر کچھ زخم آئے ہیں۔شام کے احمدی ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ایسا نظارہ میں نے کبھی نہیں دیکھا۔کوئی افراتفری نہیں تھی۔کوئی ہر اسانی نہیں تھی۔کوئی خوف نہیں تھا۔ہر ایک آرام سے اپنے اپنے کام کر رہا تھا اس وقت بھی جب دشمن گولیاں چلا رہا تھا اور انتظامیہ کی طرف سے جو بھی ہدایات دی جارہی تھیں ان کے مطابق عمل ہو رہا تھا۔کہتے ہیں کہ میرے لئے تو ایک ایسی انہونی چیز تھی کہ جس کو میں نے کبھی نہیں دیکھا۔پس یہ وہ لوگ ہیں، یہ وہ مائیں ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی جماعت میں پیدا کی ہیں۔قربانیوں کی عظیم مثال ہیں۔اس بات کی فکر نہیں کہ میرے بچوں کا کیا حال ہے یا میرا بچہ شہید ہو گیا ہے۔پوری جماعت کے لئے یہ مائیں درد کے ساتھ دعائیں کر رہی ہیں۔پس اے احمد کی ماؤں ! اس جذبے کو اور ان نیک اور پاک جذبات کو اور ان خیالات کو کبھی مرنے نہ دینا۔جب تک یہ جذبات رہیں گے ، جب تک یہ پر عزم سوچیں رہیں گی، کوئی دشمن کبھی جماعت کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔