خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 262 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 262

خطبات مسرور جلد ہشتم 262 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 جون 2010 اظہار بھی کیا۔پس یہ ظلم جو تم نے ہمارے سے روار کھا اس کا بدلہ اس دنیا میں ہمیں انعام کی صورت میں ملنا شروع ہو گیا۔میرا خیال تھا کہ کچھ واقعات بیان کروں گا لیکن بعض اتنے درد ناک ہیں کہ ڈرتا ہوں کہ جذبات سے مغلوب نہ ہو جاؤں۔اس لئے سارے تو بیان نہیں کر سکتا۔چند ایک واقعات جو ہیں وہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ہمارے نائب ناظر اصلاح وارشاد ہیں۔انہوں نے لکھا کہ ایک نمازی نے جب وہ جنازے پر آئے تھے، کسی کو مخاطب ہو کر کہا کہ ایک انعام اور ملا کہ شہید باپ کا بیٹا ہوں اور مجھے کہا کہ عزم اور حوصلے بلند ہیں ، ماڈل ٹاؤن میں مکرم اعجاز صاحب کے بھائی شہید ہو گئے اور انہیں مسجد میں ہی اطلاع مل گئی اور کہا گیا کہ فلاں ہسپتال پہنچ جائیں۔انہوں نے کہا کہ جانے والا خدا کے حضور حاضر ہو چکا، اب شاید میرے خون کی احمدی بھائیوں کو ضرورت پڑ جائے، اس لئے میں تو اب یہیں ٹھہروں گا۔ایک ماں نے کہا کہ اپنی گود سے جواں سالہ بیٹا خدا کی گود میں رکھ دیا۔جس کی امانت تھی اس کے سپر د کر دی۔ہمارے مربی سلسلہ محمود احمد شاد صاحب نے ماڈل ٹاؤن میں اپنے فرض کو خوب نبھایا۔خطبہ کے دوران دعاؤں اور استغفار ، صبر اور درود پڑھنے کی تلقین کرتے رہے۔بعض قرآنی آیتیں بھی دہرائیں۔دعائیں بھی دہرائیں اور درود شریف بھی بلند آواز سے دہرایا اور نعرہ تکبیر بھی بلند کیا اور آپ نے جامِ شہادت بھی نوش کیا۔سردار عبد السمیع صاحب نے بتایا کہ فجر کی نماز پر چک سکندر کے واقعات اور شہادتوں کا ذکر فرمارہے تھے کیونکہ یہ اس وقت وہاں متعین تھے۔ایک صاحب لکھتے ہیں کہ باہر سیڑھیوں کے نیچے صحن میں ڈیڑھ دو سو آدمی کھڑے تھے۔اس وقت دہشتگر د فائرنگ کرتے ہوئے ہال کے کارنر میں تھے۔ایک آدمی بالکل صحن کے کونے تک آگیا۔اگر وہ اس وقت باہر آجاتا تو جو ڈیڑھ دو سو آدمی باہر تھے وہ شاید آج موجود نہ ہوتے۔لیکن میری آنکھ کے سامنے ایک انصار جن کی عمر لگ بھگ 65 سال یا اوپر ہو گی، انہوں نے pillar کے پیچھے سے نکل کر اس کی طرف دوڑ لگا دی۔اور اس کی وجہ سے بالکل ان کی چھاتی میں گولی لگی اور وہ شہید ہو گئے ، لیکن ان کی بہادری کی وجہ سے دہشت گرد کے باہر آنے میں کچھ وقت لگا۔لیکن اس عرصہ میں بہت سے احمدی محفوظ جگہ پر پہنچ گئے اور پھر اس نے گرینیڈ بعد میں پھینکا۔اور کہتے ہیں جب ہم باہر آئے ہیں تو ہم نے دیکھا کہ بے شمار لوگ سیڑھیوں پر شہید پڑے تھے۔ایک صاحب نے مجھے لکھا، جو جاپان سے وہاں گئے ہوئے تھے اور جنازے میں شامل ہوئے کہ آخرین کی شہادتوں نے نبی اکرم علی ایم کے دور مبارک کی یادوں کو تازہ کر دیا۔ربوہ کے پہاڑ کے دامن میں ان مبارک وجو دوں کو دفناتے ہوئے کئی دفعہ ایسا لگا جیسے اس زمانے میں نہیں۔صبر ورضا کے ایسے نمونے تھے جن کو الفاظ میں ڈھالنا نا ممکن ہے۔انصار اللہ کے لان میں میں نے اپنی دائیں طرف ایک بزرگ سے جو جنازے کے انتظار میں بیٹھے