خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 261
261 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 جون 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم لیکن نہیں جانتے کہ احمدی خدا تعالیٰ کی طرف سے عطا کر دہ صبر اور دعا کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مددمانگنے والے اور اس کی پناہ میں آنے والے لوگ ہیں۔خلافت کے جھنڈے تلے جمع ہونے والے لوگ ہیں۔اور یہ کبھی ایسارۃ عمل نہیں دکھا سکتے۔جب یہ رد عمل جو مخالفین کی توقع تھی ان لوگوں نے نہیں دیکھا اور پھر بیرونی دنیا نے بھی اس ظالمانہ حرکت پر شور مچایا اور میڈیا نے بھی ان کو ننگا کر دیا تو رات گئے حکومتی اداروں کو بھی خیال آگیا کہ ان کی ہمدردی کی جائے۔اور اپنی شرمندگی مٹائی جائے۔اور پھر آ کے بیان بازی شروع ہو گئی۔ہمدردیوں کے بیان آنے لگ گئے۔حیرت ہے کہ ابھی تک دنیا کو، ان لوگوں کو خاص طور پر یہ نہیں پتہ چلا کہ احمدی کیا چیز ہیں؟ گزشتہ ایک سو ہیں سالہ احمدیت کی زندگی کے ہر ہر سیکنڈ کے عمل نے بھی ان کی آنکھیں نہیں کھولیں۔یہ ایک امام کی آواز پر اٹھنے اور بیٹھنے والے لوگ ہیں۔یہ اس مسیح موعود کے ماننے والے لوگ ہیں جو اپنے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی علی ملی یکم کی تعلیم کو دنیا میں رائج کرنے آیا تھا۔جنہوں نے جانور طبع لوگوں کو انسان اور انسانوں کو باخدا انسان بنایا تھا۔پس اب جبکہ ہم درندگی کی حالتوں سے نکل کر با خدا انسان بننے کی طرف قدم بڑھانے والے ہیں، ہم کس طرح یہ توڑ پھوڑ کر سکتے ہیں۔جلوس اور قتل و غارت کا رد عمل کس طرح ہم دکھا سکتے تھے۔ہم نے تو اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھتے ہوۓ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کہا اور اپنا معاملہ خدا پر چھوڑ دیا۔ہم نے تو اپنا غم اور اپنا دکھ خدا تعالیٰ کے حضور پیش کر دیا ہے اور اس کی رضا پر راضی اور اس کے فیصلے کے انتظار میں ہیں۔یہ درندگی اور سفا کی تمہیں مبارک ہو جو خدا کے نام پر خدا کی مخلوق بلکہ خدا کے پیاروں کے خون کی ہولی کھیلنے والے ہو۔عوام کو مذہب کے نام پر دوبارہ چودہ پندرہ سو سال پہلے والی بڈو وانہ زندگی میں لے جانے والے اور اس میں رہنے والے ہو۔یہ لوگ کہتے ہیں کہ کسی مصلح کی ضرورت نہیں ہے۔اب کسی مسیح موعود کی آنے کی ضرورت نہیں ہے۔اب اس سے بھی انکاری ہوتے جا رہے ہیں۔ہمارے لئے قرآن اور شریعت کافی ہے۔کیا تمہارے یہ عمل اس شریعت اور قرآن پر ہیں جو ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ ہم لائے تھے ؟ یقینا نہیں۔تم میرے آقا، ہاں وہ آقا جو محسن انسانیت تھا اور قیامت تک اس جیسا محسن انسانیت پیدا نہیں ہو سکتا، اس محسن انسانیت کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش کرنے والے ہو۔ناموس رسالت کے نام پر میرے پاک رسول صلی میں ہم کو بد نام کرنے والے ہو۔یقینا قیامت کے دن لا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ کا کلمہ تم میں سے ایک ایک کو پکڑ کر تمہیں تمہارے بد انجام تک پہنچائے گا۔ہمارا کام صبر اور دعا سے کام لینا ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ ہر احمد ی اس پر کار بند رہے گا۔یہ صبر کے نمونے جب دنیا نے دیکھے تو غیر بھی حیران ہو گئے۔ظلم اور سفاکی کے ان نمونوں کو دیکھ کر غیروں نے نہ صرف ہمدردی کا اظہار کیا بلکہ احمدیت کی طرف مائل بھی ہوئے بلکہ بیعت میں آنے کی خواہش کا