خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 260 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 260

خطبات مسرور جلد ہشتم 260 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 جون 2010 کھڑے ہو جائیں اور ہر چہ بادا باد کہہ کر گردن کو آگے رکھ دیں اور قضاء و قدر کے آگے دم نہ ماریں اور ہر گز بے قراری اور جزع فزع نہ دکھلاویں جب تک کہ آزمائش کا حق پورا ہو جائے۔یہی استقامت ہے جس سے خدا ملتا ہے۔یہی وہ چیز ہے جس کی رسولوں اور نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں کی خاک سے اب تک خوشبو آرہی ہے “۔اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد نمبر 10 صفحہ 420-419) آج ہمارے شہداء کی خاک سے بھی یقیناً یہ خوشبو آرہی ہے جو ہمارے دماغوں کو معطر کر رہی ہے۔ان کی استقامت ہمیں پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ جس استقامت اور صبر کا دامن تم نے پکڑا ہے، اسے کبھی نہ چھوڑنا۔یقینا اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کا سچا ہے۔ابتلاء کا لمبا ہو نا تمہارے پائے استقلال کو ہلانہ دے۔کہیں کوئی ناشکری کا کلمہ تمہارے منہ سے نہ نکل جائے۔ان شہداء کے بارے میں تو بعض خواہیں بھی بعض لوگوں نے بڑی اچھی دیکھی ہیں۔خوش خوش جنت میں پھر رہے ہیں۔بلکہ ان پر تمغے سجائے جارہے ہیں۔دنیاوی تمغے تو لمبی خدمات کے بعد ملتے ہیں یہاں تو نوجوانوں کو بھی نوجوانی میں ہی خدمات پر تمغے مل رہے ہیں۔پس ہمارا رونا اور ہمارا غم خدا تعالیٰ کے حضور ہے اور اس میں ہمیں کبھی کمی نہیں ہونے دینی چاہئے۔آپ لاہور کے وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ الہام ہوا تھا کہ لاہور میں ہمارے پاک ممبر موجود ہیں“۔(تذکرہ صفحہ 328 جدید ایڈیشن) اور ”لاہور میں ہمارے پاک محب ہیں“۔(تذکرہ صفحہ 328) پس یہ آپ لوگوں کا اعزاز ہے جسے آپ لوگوں نے قائم رکھنے کی کوشش کرنی ہے۔خدا تعالیٰ کی رضا کو صبر اور دعا سے حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہے۔اور پھر اس تعلق میں بہت سی خوشخبریاں بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بتائی ہیں۔پس خوش قسمت ہیں آپ جن کے شہر کے نام کے ساتھ خوشخبریاں وہاں کے رہنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک مسیح علیہ السلام کے ذریعہ دی ہیں۔دشمن نے تو میرے نزدیک صرف جانی نقصان پہنچانے کے لئے یہ حملہ نہیں کیا تھا، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اور بھی مقصد تھے۔ایک تو خوف پیدا کر کے اپنی نظر میں ، اپنے خیال میں کمزور احمدیوں کو احمدیت سے دور کرنا تھا، نوجوانوں میں بے چینی پیدا کرنی تھی۔لیکن نہیں جانتے کہ یہ ان ماؤں کے بیٹے ہیں جن کے خون میں، جن کے دودھ میں جان، مال، وقت، عزت کی قربانی کا عہد گردش کر رہا ہے۔جن کے اپنے اندر عہد وفا نبھانے کا جوش ہے۔دوسرے دشمن کا یہ خیال تھا کہ اس طرح اتنی بڑی قربانی کے نتیجے میں احمدی برداشت نہیں کر سکیں گے اور سڑکوں پر آجائیں گے۔توڑ پھوڑ ہو گی، جلوس نکلیں گے اور پھر حکومت اور انتظامیہ اپنی من مانی کرتے ہوئے جو چاہے احمدیوں سے سلوک کرے گی۔اور اس رد عمل کو باہر کی دنیا میں اچھال کر پھر احمدیوں کو بدنام کیا جائے گا۔اور پھر دنیا کو دکھانے کے لیے ، بیرونی دنیا کو باور کرانے کے لئے یہ لوگ اپنی تمام تر مدد کے وعدے کریں گے۔