خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 237
237 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 مئی 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم لئے بہت زیادہ دعائیں کریں۔نام نہاد علماء نے کفر کے فتووں سے اس طرح عوام الناس کی عقلیں چکرا دی ہیں، کہ بالکل ہی ان کی عقل مار دی ہے۔ان کو سمجھ ہی نہیں آتی کہ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ ہے۔یہ بعض تو ایسے ہیں لوگ جو مجرم ہیں۔قرآنِ کریم میں ان کا ذکر آتا ہے اور ان علماء کے دست راست ہیں۔ان سے کسی نیکی کی امید رکھنا عبث ہے ، فضول ہے۔لیکن بعض نا سمجھ جنہیں دین کا علم نہیں ہے کم علمی میں مولویوں کی باتوں پر یقین کر لیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں بھی عقل دے اور حقیقت کو سمجھیں۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت سے نیک فطرت لوگ بھی ہیں جو مولویوں کی ان حرکتوں سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔ان کو چاہئے کہ اپنے ملک کو بچانے کے لئے اپنی آواز بلند کریں اور بزدلی چھوڑیں۔مولوی کو تو اپنی پڑی ہوئی ہے کہ اس کا منبر قائم رہے جس پر کھڑا ہو کر وہ قوم کو بیوقوف بنا تار ہے۔یہی حال لیڈروں کا ہے۔پاکستان میں معاشی بد حالی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے۔ٹی وی پروگراموں میں روز آتا ہے ، اخباروں میں روز آرہا ہے۔کسی کو کسی کی پرواہ نہیں ہے۔دہشت گردی زوروں پر ہے۔اس کی بھی کسی کو پرواہ نہیں ہے کہ کیا کچھ ہو رہا ہے۔روزانہ دس پندرہ لوگ مر رہے ہیں یا بعض دفعہ اس سے زیادہ۔آسمانی آفات نے گھیر ا ہوا ہے۔اس کے بارے میں کوئی سوچنے کو تیار نہیں ہے۔اب گزشتہ دنوں سے ہنزہ میں جھیل نے ہی اس علاقے میں خوف و ہراس پھیلایا ہوا ہے۔اور پانی کی سطح غیر معمولی بلند ہوتی چلی جارہی ہے اور ایک جھیل نے کئی جھیلوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور کچھ پتا نہیں چل رہا کہ پانی کہاں سے آرہا ہے۔ان کے سب اندازے جو ہیں غلط ہوتے چلے جارہے ہیں۔کئی دیہات جو ہیں کئی گاؤں پانی کی لپیٹ میں آگئے ہیں پہاڑی کی طرف اوپر چڑھتے ہیں تو او پر پانی پہنچ جاتا ہے۔کہتے ہیں شاہراہ قراقرم ڈوب گئی ہے۔راستے مسدود ہو گئے ہیں۔اب تو اتنی شدت ہو گئی ہے پانی کی کہ کشتیوں کے ذریعے جو مدد کر رہے تھے اس کو بھی انہوں نے ختم کر دیا۔پہاڑوں کے اوپر چلتے چلے جارہے ہیں لیکن وہاں تک پانی پہنچ رہا ہے، آہستہ آہستہ وہ بھی پیچھا کر رہا ہے۔اور اب تو سنا ہے کہ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے سے بھی لوگوں کو نکالنا مشکل ہو گیا ہے۔تو یہ تو وہاں کے حالات ہیں۔یہ غور کریں یہ سب کچھ کیا ہے ؟ اور اب جو پانی کی سطح ہے ، وہ اتنی بلند ہو رہی ہے کہ spillway کی خطرناک حد تک پہنچنے کے بعد جو spillway بنایا گیا تھا، وہاں سے اگر بہے گی تو یہ بھی خطرہ ہے کہ اس کو بھی ساتھ بہا کر نہ لے جائے۔اور جتنا پانی بہے گا وہ پھر نچلے علاقوں میں تباہی پھیلائے گا اس کا بھی کہتے ہیں کچھ اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔لیکن یہ سب باتیں جو ہیں ان کے کانوں پر جوں تک رینگنے کا باعث نہیں بن رہیں۔ان کو کوئی توجہ نہیں ، کوئی فکر نہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔فکر ہے تو ایک ہے کہ احمدیوں کے خلاف گند اگلو اور احمدیوں کی مسجدوں سے کلمے مٹاؤ۔ان کو قتل کرو۔احمدی کو قتل کرنا تو شہادت کا درجہ رکھتا ہے۔کیونکہ خالصتا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی ال نیم کے نام پر قتل کئے جارہے ہیں۔لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدُ رسُولُ اللہ کہنے کے باوجود ان کو قتل کیا جاتا ہے۔آنحضرت صلی للہ ہم نے تو فرمایا تھا کہ تم نے دل چیر کر دیکھا تھا کہ الله