خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 236
خطبات مسرور جلد ہشتم 236 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 مئی 2010 نافذ کرنے والے ادارے ، یا ادارے کے افراد یہ حرکت کرتے ہیں تو کریں، ہم قانون سے نہیں لڑتے۔لیکن ہر احمدی کو یادرکھنا چاہئے کہ ہم نے کبھی کسی بھی صورت میں اس بارے میں ان کا مددگار نہیں بنا۔تاکہ قیامت کے دن یہ کلمہ ہمارے حق میں گواہی دے اور انہیں مجرم ٹھہرائے۔پاکستان کا قانون کہتا ہے کہ احمدی کیونکہ ان کی بنائی ہوئی تعریف کے مطابق مسلمان نہیں ہیں اس لئے کلمہ پڑھنے اور لکھنے کی بھی ان کو اجازت نہیں ہے۔ہم کہتے ہیں کہ ہمیں تمہاری تعریف کی ضرورت نہیں ہے۔اللہ اور اس کے رسول نے کہہ دیا کہ جو کلمہ پڑھے وہ مسلمان ہے۔بلکہ حدیث میں آتا ہے، آنحضرت صلی علیم نے فرمایا کہ سب سے افضل ذکر جو ہے، اور ایک شخص کو مومن بناتا ہے۔وہ صرف لا إِلهَ إِلَّا الله کہنا ہی ہے۔ہمارے ایمان اور اسلام کو ہم سے کوئی نہیں چھین سکتا۔بلکہ اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے۔وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ الْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا (النساء:95)۔اور جو تم پر سلام بھیجے ، اسے یہ نہ کہا کرو کہ تو مومن نہیں ہے۔احمدی تمام ارکانِ اسلام پر یقین رکھتے ہیں اور احمدی تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اللہ تعالیٰ، اس کے رسول صلی علیہ کم اور قرآن پر کامل ایمان رکھتے ہیں۔اور تمام ارکانِ اسلام اور ارکانِ ایمان پر یقین رکھتے ہیں۔اور یہ ایمان رکھتے ہوئے نہ صرف مسلمان ہیں بلکہ حقیقی مومن ہیں۔کیونکہ احمدی ہی ہیں جنہوں نے آنحضرت صلی میں کم کی پیشگوئی کو پورا کرتے ہوئے زمانے کے امام کو بھی سلام پہنچایا ہے اور ان کی جماعت میں شامل ہیں۔یہ کلمہ مٹانے کا واقعہ صرف وہیں ایک گاؤں میں نہیں ہوا۔بلکہ پچھلے دن یا ایک دن بعد سر گودھا کے ایک اور گاؤں چک 152 شمالی میں بھی ہوا۔وہاں بھی پولیس گئی، لیکن صدر جماعت دروازہ بند کر کے بیٹھ گئے اور ان سے کہا کہ باور دی پولیس نے خود آنا ہے تو آئے، اور کوئی اندر نہیں آسکتا۔بوڑھے آدمی تھے اور دل کے مریض بھی تھے۔انہوں نے کہا اگر کوئی آئے گا تو میری لاش پر سے گزر کے اندر جائے گا۔ان کا نام ملک عطاء محمد صاحب ہے ، اور مسلسل اس دوران یہ کلمہ کا ورد بھی کرتے رہے۔پولیس بہر حال واپس چلی گئی کلمہ نہیں مٹایا۔لیکن صدر صاحب کے متعلق امیر صاحب ضلع نے لکھا ہے کہ کیونکہ دل کے مریض تھے اس وجہ سے دل کی تکلیف بڑھ گئی۔گھر گئے ہیں اور طبیعت زیادہ خراب ہو گئی۔اس دوران پورے عرصہ میں کلمہ کا ورد کرتے رہے۔گھر جا کر ان کو بڑی شدت سے ہارٹ اٹیک ہوا۔اور تھوڑی دیر بعد ان کی وفات ہو گئی۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے۔کل میں نے ان کا جنازہ ویسے ایک جنازہ کے ساتھ پڑھا دیا تھا۔پاکستان میں آج کل مخالفت زوروں پر ہے۔پاکستان کے احمدیوں کے لئے بھی باہر کے احمدی دعا کریں۔اور پاکستانی احمدیوں کو بھی میں یاد دہانی کرواتا ہوں کہ اس وقت پاکستان کی بقا بھی احمدیوں کی دعاؤں میں ہے۔اس