خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 222 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 222

222 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 مئی 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم سکتا ہے نہ روحانی رزق مل سکتا ہے۔بعض احمدی بھی اس اصل کو بھولتے چلے جارہے ہیں۔جیسا کہ میں کئی مرتبہ پہلے بھی بیان کر چکا ہوں اور یہ واقعات اکثر ہوتے رہتے ہیں اس لئے میں بیان کرتا ہوں کہ اس طرف توجہ دینے کی بہت زیادہ ضرورت ہے کہ اپنی نمازوں کی حفاظت کریں، پابندی کریں۔جب دعا کے لئے بعض لوگ مجھے کہتے ہیں تو بعض کے چہروں سے ہی پتا لگ جاتا ہے کہ رسمی طور پر کہا جا رہا ہے۔جب ان سے پوچھو کہ تم خود نماز پڑھتے ہو ؟ دعاؤں کی طرف توجہ ہے ؟ تو جواب نفی میں ہوتا ہے تو یہ انتہائی خوفناک صور تحال ہے۔ہم میں سے تو ایک بھی ایسا نہیں ہو نا چاہئے جو نماز کا تارک ہو۔بلکہ گذشتہ دنوں ایک واقعہ ہوا۔مجھے باپ بیٹا ملنے کے لئے آئے تو باپ نے بیٹے کے سامنے ہی بیٹے کی شکایت کی کہ اس کی نمازوں کی طرف توجہ نہیں ہے اور کاروبار میں بڑا اچھا ہے، کاروبار کی طرف توجہ ہے۔اور بیٹا بھی اپنے کاروبار کے لئے ہی دعا کے لئے کہہ رہا تھا تو اسے میں نے کہا کہ یہ تو خدا تعالیٰ سے مذاق ہے۔یہ باتیں بھی تم صرف رسما کر رہے ہو۔پہلی بات تو یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا کہ جو لوگ صرف کاروبار کے لئے ، اپنی دنیا داری کے لئے مجھے دعا کے لئے کہتے ہیں ان سے مجھے ایک طرح کی کراہت آتی ہے۔تو دنیاوی ترقی کے لئے بھی دعا کرنا ضروری ہے اس کے بغیر نہیں ہو سکتی لیکن صرف دنیا مقصود نہ ہو بلکہ سب سے اول خدا تعالیٰ کا حق ادا کرنے کی ضرورت ہے اور اس طرف ہر احمدی کو توجہ دینی چاہئے۔میں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر تمہارا کاروبار اچھا چل گیا تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کا ایک فضل ہے۔جو خدا اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ اس نے تمہارا کاروبار کامیاب کر دیا تو وہ یقیناً اس بات کی بھی قدرت رکھتا ہے کہ اس میں اس کشائش کو دور کر دے اور اپنے فضلوں کا جو ہاتھ ہے وہ اٹھا لے۔اس لئے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کی عبادت کی ضرورت ہے اور یہ انسانی تخلیق کا سب سے بڑا مقصد ہے۔پس ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ اپنے خالق و مالک کا ہم تبھی حق ادا کر سکتے ہیں جب اس کو معبودِ حقیقی سمجھیں اور اس کے سامنے جھکیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل جلد 17 شماره 22 مورخہ 28 مئی تا 3 جون 2010 صفحہ 5 تا 7)