خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 221
خطبات مسرور جلد ہشتم 221 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 مئی 2010 زمانہ میں بہتوں نے یہود کارنگ پکڑا اور نہ صرف تقویٰ اور طہارت کو چھوڑا بلکہ ان یہود کی طرح جو حضرت عیسی کے وقت میں تھے سچائی کے دشمن ہو گئے۔تب بالمقابل خدا نے میرا نام مسیح رکھ دیا۔نہ صرف یہ ہے کہ میں اس زمانہ کے لوگوں کو اپنی طرف بلاتا ہوں بلکہ خود زمانے نے مجھے بلایا ہے“۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 428) پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ امن يَبْدَوُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَ مَنْ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَالهُ فَعَ اللهِ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِن كُنتُم صُدِقِینَ۔(النمل: 65) کہ یا وہ کون ہے جو تخلیق کا آغاز کرتا ہے۔پھر وہ اسے دھراتا ہے اور کون ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق عطا کرتا ہے۔کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے؟ تو کہہ دے کہ تم اپنی دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو۔یہ جو ساری آیات ہیں سورۃ نمل کی ہیں اور ان سب میں ہر جگہ ہر بات کہنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ کیا تمہارا اور کوئی معبود ہے؟ اگر ہے تو لاؤ۔اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ یہی فرمارہا ہے ، اس تخلیق کے بارے میں جس کا آیت میں ذکر ہے کہ يبدوا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُه - حضرت مصلح موعودؓ کے نزدیک پیدائش اولیٰ سے مراد قوموں کی تمکنت ہے اور یعیدہ سے مراد غالب قوموں کے زوال کے بعد ان میں دوبارہ زندگی کی اور بیداری کی روح پیدا کرنا ہے۔یعنی اگر غور کرو تو تمہیں نظر آئے گا کہ اگر کسی قوم نے ترقی کی ہے تو الہی مد داور تائید سے کی ہے۔اور انحطاط کے بعد احیائے ثانیہ بھی، دوسری زندگی بھی ان کو ملی ہے تو الہی تقدیروں کے ماتحت ہوئی ہے۔یہ سب کچھ خود بخود نہیں ہوا اور یہی توجہ اب مسلمانوں کو بھی دلائی گئی ہے کہ تمہیں غلبہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہو گا۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد ہفتم صفحه 425) ووو، پس نہ کسی شدت پسند گروپ کی ضرورت ہے۔نہ ہی کسی تلوار کے جہاد کی ضرورت ہے۔اگر غلبہ حاصل کرنا ہے تو خدا تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرتے ہوئے۔ہو سکتا ہے اور اس کے لئے خدا تعالیٰ نے اس زمانے میں مسیح موعود کو بھیجا ہے جنہوں نے ہمیں غلبہ کا جو ہتھیار دیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تائید یافتہ دلائل اور براہین ہیں اور خدا تعالیٰ نے ہمیں یہ کہا ہے کہ یہ سب کچھ دعاؤں سے ہوتا ہے۔اس لئے خالص ہو کر اس کے آگے جھکنا بھی ضروری ہے۔پس اگر مسلمانوں نے اپنی پیدائش نو کے نظارے دیکھنے ہیں تو مسیح موعود کے ساتھ جڑنے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ کے حضور خالص ہو کر حاضر ہونے کی ضرورت ہے۔نہ کہ تلواریں اٹھانے کی یاد ہشت گردی کرنے کی اور پھر اس آیت میں اس بات کو دہرایا کہ رزق جو آسمان اور زمین سے مل رہا ہے یہ اللہ تعالیٰ ہی مہیا فرما رہا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کی طرف جھکو اور اس سے ہی سب خیر مانگو۔احمدیوں کا بھی یہ فرض ہے کہ اس اصول کو ہمیشہ یاد رکھیں۔بغیر خدا تعالیٰ کی مدد کے نہ مادی رزق مل