خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 216
خطبات مسرور جلد ہشتم 216 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 مئی 2010 کر دار ادا کر رہے ہیں اور یہ سب خدا تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔اس میں یہ بھی واضح کر دیا کہ جس طرح تمہاری دنیاوی زندگی اور تمام نعمتوں کا خالق خدا ہے اسی طرح تمہاری روحانی زندگی میں بھی خدا تعالیٰ نے سامان کئے ہیں۔اور یہ روحانی اور دنیاوی زندگی کے سامان ایک نیک فطرت انسان سے یہ تقاضا کرتے ہیں کہ ایک خدا کی عبادت کی جائے جس نے جسمانی اور روحانی زندگی کے سامان پیدا فرمائے۔یہ بھی فرمایا کہ ہمیشہ یاد رکھو کہ یہ دنیاوی رزق تو عارضی رزق ہے۔اصلی رزق وہ روحانی رزق ہے جو دائمی رہنے والا ہے۔جو آخرت میں کام آنے والا ہے۔اور یہ اس وقت تک نہیں مل سکتا جب تک کہ کامل موحد نہیں بنتے، جب تک صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی عبادت کرنے والے نہیں بنتے۔پس یہ اصل ہے جس کو سمجھنے کی ہمیں بھی ضرورت ہے اور دنیا کو سمجھانے کی بھی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ کے روحانی سامانوں کی تخلیق میں انبیاء کا وجود ہوتا ہے۔اور سب سے بڑھ کر یہ اظہار خدا تعالیٰ نے آنحضرت صل الم کو مبعوث فرما کر فرمایا، جو ہر لحاظ سے خدا تعالیٰ کی کامل تخلیق کا ایک نمونہ ہیں، جو انسان کامل کہلائے۔اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا حقیقی اظہار چاہے وہ دنیاوی ہیں یا روحانی ہیں آپ کے اسوہ پر چل کر ہی ہو سکتا ہے جس کو ہم نے بھی اپنے سامنے رکھنا ہے اور دنیا کو بھی بتانا ہے۔پس یہ چیز ہے جو بہت اہم ہے۔خدا کرے کہ ہم اس مقصد کو ادا کرنے والے بھی ہوں اور دنیا اس چیز کو سمجھنے والی بھی ہو اور اللہ کا عبد بنے۔پھر ایک جگہ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اَمَّنْ خَلَقَ السَّمواتِ وَالْأَرْضَ وَ أَنْزَلَ لَكُمْ مِنَ السَّمَاءِ E b مَاء فَانْبَتْنَا بِهِ حَدَابِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ مَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تُنْبِتُوا شَجَرَهَا ۖ وَإِلَهُ فَعَ اللَّهِ ۖ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَعْدِلُونَ۔(النمل: 61) کہ یہ بتاؤ کہ کون ہے وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمہارے لئے آسمان سے پانی اتارا۔اور اس کے ذریعہ ہم نے پر رونق باغات لگائے۔تمہارے بس میں تو نہ تھا کہ تم ان کے درخت پروان چڑھاتے۔پس کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے؟۔( نہیں ، نہیں)۔بلکہ وہ نا انصافی کرنے والے لوگ ہیں۔پس ہمیں اس طرف توجہ دلائی کہ زمینی اور آسمانی نظام پر غور کرو۔اگر انصاف اور عقل کو استعمال کرو گے تو اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا ایک خدا ہے۔اور پھر پیدا کر کے چھوڑ نہیں دیا بلکہ فرمایا کہ وَ أَنْزَلَ لَكُمْ مِنَ السَّمَاء مَاء۔کہ تمہارے لئے آسمان سے پانی اتارا ہے تاکہ تمہاری زندگی قائم رہ سکے۔پہلے بھی بیان کر کے آیا ہوں کہ اگر تمہارا پانی زمین میں غائب ہو جائے تو کیا کرو گے ؟ کون اسے لا سکتا ہے ؟ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی ہستی کا ثبوت دیا ہے کہ پانی بھیجنا خدا تعالیٰ کا کام ہے۔زمین کی زندگی میں پانی کا بڑا اہم کردار ہے۔جب زمین میں زندگی نہیں تھی اور زمین میں شدید حرارت تھی۔اس وقت کہتے ہیں کہ بعض خاص قسم کے بیکٹیریا موجود تھے لیکن یہ عمومی زندگی جو اب ہے یہ اس میں پنپ نہیں سکتی تھی۔تو اس وقت پانی کے ذریعے سے اس میں