خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 215 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 215

خطبات مسرور جلد ہشتم 215 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 مئی 2010 از ہری کے نزدیک الْخَالِق اور الْخَلاق اللہ تعالیٰ کی صفاتِ حسنہ میں سے ہیں اور الف اور لام کے ساتھ یعنی آن کے ساتھ یہ صفت اللہ کے سوا کسی غیر کے لئے استعمال نہیں ہوتی اور اس سے مراد وہ ذات ہے جو تمام اشیاء کو نیست سے پیدا کرتی ہے اور لفظ خلق کا بنیادی معنی اندازہ لگاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ چیزوں کے وجود کا اندازہ کرنے کے اعتبار سے اور پھر اس اندازے کے مطابق انہیں وجود بخشنے کے اعتبار سے خالق کہلاتا ہے۔اہل عرب کے کلام میں خلق سے مراد بغیر کسی سابقہ نمونے کے کسی چیز کو پیدا کرنا اور ہر وہ چیز جسے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اسے بغیر کسی سابقہ نمونے کے شروع کرنے والا ہے۔(لسان العرب زیر مادہ: خلق) قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی تخلیق کے حوالے سے اور نام بھی استعمال ہوئے ہیں جیسے باری ہے، یعنی ایسا پیدا کرنے والا جس کا پہلے نمونہ نہیں تھا۔پیدائش کا آغاز کرنے والا۔بدیع کی صفت بھی ہے۔اس کا مطلب ہے ایسا صانع جو نمونہ یا آلہ یا زمان و مکان کی قید سے بالا ہو کر پیدا کرتا ہے۔یعنی کسی چیز کو پیدا کرنے کے لئے اسے کسی چیز کی حاجت نہیں ہے۔پھر ایک لفظ فاطز ہے جو خدا تعالیٰ کے لئے استعمال ہو گا۔اس کا مطلب ہے کہ پیدائش کی ابتداء اور اس میں خوبصورتی پیدا کرنے والا۔بہر حال یہ بہت سارے الفاظ ملتے جلتے ہیں ان کی وضاحت تو آئندہ اپنے اپنے موقع پر ہو گی۔اس وقت صرف الخالق کے حوالے سے قرآنِ کریم کی آیات پیش کروں گا۔یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس کا ترجمہ ہے کہ اے لوگو! اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو یاد کرو۔کیا اللہ کے سوا بھی کوئی خالق ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق عطا کرتا ہے۔کوئی معبود نہیں مگر وہ۔پس تم کہاں الٹے پھر ائے جاتے ہو ؟ پس اللہ تعالیٰ نے انسانیت کو ایک پیغام دیا ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو جو اشرف المخلوقات بنایا ہے تو اس کی پرورش کے لئے اپنی نعمتیں بھی اتاری ہیں۔یہ مت خیال کرو کہ تمہیں جو رزق مہیا ہو رہا ہے یہ اللہ کے سوا کوئی اور مہیا کر رہا ہے۔اس رزق کا پیدا کرنے والا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے جو رب العالمین ہے۔زمین جو رزق تمہارے لئے پیدا کر رہی ہے اس رزق کے پیدا کرنے کے لئے بھی آسمان کی مدد کی ضرورت ہے۔آسمانی پانی نہ ہو تو زمینی پانی بھی خشک ہو جاتا ہے۔پس زمین سے رزق پیدا کرنے والا بھی خدا ہے اور آسمان سے ان ذرائع کا پیدا کرنے والا بھی خدا ہے جو زمینی رزق پیدا کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔قرآنِ کریم میں ایک جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ قُلْ اَروَيْتُمُ اِنْ اَصْبَحَ مَاؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ يَأْتِيَكُمْ بِمَاءٍ معِينِ (الملک:31)۔تو کہہ بتاؤ تو سہی کہ اگر تمہارا پانی زمین کی گہرائی میں غائب ہو جائے تو بہنے والا پانی تمہارے پاس خدا کے سوا اور کون لائے گا؟ پس زمین کے چشمے ، پہاڑوں پر برف، بارشیں یہ سب اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ ہیں۔پھر زمینی زندگی کے لئے ، انسانیت کی بقا کے لئے سورج، چاند اور دوسرے سیارے ہیں یہ بھی ایک اہم