خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 214 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 214

خطبات مسرور جلد ہشتم 214 19 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 مئی 2010 خطبہ جمعہ فرموده 07 مئی 2010ء بمطابق 07 ہجرت 1389 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح ، لندن (برطانیہ) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: يَاأَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللهِ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَا إِلَهَ اِلَّا هُوَ فَانّى تُؤْفَكُونَ۔(فاطر : 4 ) اللہ تعالیٰ نے اپنے خالق ہونے کا ذکر قرآنِ کریم میں بے شمار جگہ پر کیا ہے۔اور مختلف پیرایوں میں ہمیں سمجھایا ہے کہ میں خالق ہوں۔تمہیں پیدا کرنے والا ہوں۔اس کے باوجود تم میرے صحیح عبد نہیں بنتے۔اس حوالے سے بعض آیات بیان کرنے سے پہلے میں اہل لغت نے لفظ خالق کے حوالے سے جو معنی بیان کئے ہیں وہ بتانا چاہتا ہوں۔جیسا کہ میں نے کہا خدا تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں بے شمار جگہ پر اپنے آپ کو خالق کہا ہے۔یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے۔مفردات جو لغت کی کتاب ہے اس میں لکھا ہے کہ اصل میں خُلق کے معنی کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانے کے ہیں اور کبھی خَلْق، ابداع کے معنی میں بھی آجاتا ہے۔یعنی کسی چیز کو بغیر مادے کے اور بغیر کسی تقلید کے تخلیق کرنا۔چنانچہ آیت کریمہ خَلَقَ السَّمواتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ (النحل: 4) یعنی اس نے آسمان اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا، میں خلق ابتدا کے معنوں میں ہی ہے کیونکہ دوسرے مقام پر اس کو اس طرح بیان کیا گیا ہے۔بَدِيعُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ (البقرہ : 118) وہ آسمان اور زمین کو بغیر کسی سابقہ نمونے کے پیدا کرنے والا ہے۔پھر لکھتے ہیں کہ ایک چیز کو دوسری شے سے بنانے اور ایجاد کرنے کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔جیسے فرمایا خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ ( النساء :2) کہ تمہیں ایک جان سے پیدا کیا ہے۔خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُللَةٍ مِنْ طِينِ (المومنون : 13) اور ہم نے انسان کو گیلی مٹی کے خلاصے سے بنایا۔کہتے ہیں کہ خیال رہے کہ خلق بمعنی ابداع یعنی نئی چیز پیدا کر نا ذات باری تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے۔چنانچہ ذاتِ باری تعالیٰ اور دوسروں کے درمیان فرق بیان کرتے ہوئے فرمایا۔اَفَمَنْ يَخْلُقُ كَمَنْ لَا يَخْلُقُ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ (النحل: 18)۔پس کیا جو پیدا کرتا ہے اس جیسا ہو سکتا ہے جو کچھ بھی پیدا نہیں کرتا۔کیا پھر بھی تم نہیں سمجھتے۔( مفردات لالفاظ القرآن از علامہ راغب اصفہانی زیر ماده: خلق )