خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 203 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 203

خطبات مسرور جلد ہشتم 203 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 اپریل 2010 پلان کو نسل میں جمع کروانے کے مسجد کی تعمیر کی اجازت نہیں مل رہی تھی۔اب وہاں حالات میں کچھ تبدیلی کی صورت پیدا ہوئی ہے اور امید ہے انشاء اللہ تعالیٰ مسجد کی اجازت مل جائے گی۔اس امید پر کہ اللہ تعالیٰ فضل فرمائے گا میں وہاں مسجد کی بنیاد بھی رکھ آیا ہوں۔دعا کریں جو کاغذی کارروائیاں ہیں، روکیں ہیں اللہ تعالیٰ وہ بھی اب دور فرما دے۔اللہ تعالیٰ جلد ہمیں وہاں مسجد کی تعمیر کی توفیق دے اور وہ مسجد پھر اس علاقے میں احمدیت اور اسلام کا پیغام پہنچانے کا ذریعہ بن جائے۔جہاں مسجد کی جگہ ہے وہ بڑا خو بصورت علاقہ ہے۔اچھی جگہ ہے۔امید ہے انشاء اللہ تعالیٰ مسجد بننے کے بعد اسلام کی حقیقی تصویر پیش کرنے کا موقع ملے گا اور لوگوں کو اسلام اور جماعت کے بارے میں جو غلط تحفظات ہیں وہ بھی دور ہوں گے۔ویلنسیا کے علاقے میں مسلمانوں کی آبادی سولہویں صدی تک رہی ہے اور اس علاقے کے مسلمانوں نے بڑی قربانی دے کر تین چار سو سال بعد تک اسلام اپنے اندر قائم رکھا ہے۔اللہ کرے کہ یہ علاقہ دوبارہ اسلام کی آغوش میں آجائے۔اسی طرح پید رو آباد کے قریب اب جماعتی ضروریات کے تحت مسجد کے ساتھ تعمیر کی ضرورت تھی۔جماعتی ضروریات بڑھ رہی ہیں۔لجنہ بال اور ایک گیسٹ ہاؤس وغیرہ کی تعمیر کی بنیاد بھی رکھی گئی۔سپین میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے نیشنل عاملہ کی میٹنگ میں ان کو تبلیغ کی طرف توجہ دلائی گئی اور دوسرے بعض معاملات کی بھی منصوبہ بندی ہوئی۔انہوں نے وعدہ بھی کیا ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ اب اس بارے میں تیزی پیدا کریں گے اور جو ستیاں ہوئی ہیں ان کا مداوا کریں گے۔اللہ ان کو بھی توفیق دے۔جب دنیا میں اسلام کے خلاف جگہ جگہ محاذ ہے تو یہی وقت تبلیغ کا بھی ہے۔یہی میں نے ان کو بھی کہا اور ہر ایک کو کہتا ہوں۔لوگوں کی توجہ ہے اور نیک فطرت لوگ جو ہیں جب مخالفت کی باتیں سنتے ہیں تو حقیقت بھی جانا چاہتے ہیں۔میرے مختلف جگہوں پر جانے کی وجہ سے لوگوں کی توجہ بھی پیدا ہوتی تھی تو ہمارے لوگوں کو احمدیت کے تعارف میں کچھ لٹریچر ان لوگوں کو دینے کی توفیق بھی ملتی تھی، موقع مل جاتا تھا۔بہر حال سپین کے سفر میں دس بارہ دن مصروفیت میں گزرے۔ان کی رپورٹیں بھی جیسا کہ میں نے کہا آپ پڑھ لیں گے۔یہاں سے تقریباً تین دن کے سفر کے بعد ہم اٹلی پہنچے ہیں۔یہاں بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا ہر جگہ مشاہدہ کیا ہے۔اٹلی ایک ایسا ملک ہے جس میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے زمانے میں جماعت قائم ہوئی تھی۔مبلغین بھی وہاں بھجوائے گئے تھے۔لیکن بعض نامساعد حالات کی وجہ سے یہ سلسلہ جاری نہ رہ سکا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے 1937ء میں ملک محمد شریف صاحب کو روم جانے کا حکم فرمایا تھا اور ان کی تبلیغ سے 1940ء تک کچھ لوگ احمدیت میں داخل بھی ہوئے تھے۔پھر جنگ کے حالات کی وجہ سے ملک صاحب کو 1944ء تک جنگ عظیم دوئم کے حالات کی وجہ سے دشمن کے قیدی کیمپ میں رہنا پڑا۔اسی دوران حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے مکرم محمد