خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 202
خطبات مسرور جلد ہشتم 202 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 اپریل 2010 چینلز بھی ہیں۔ان کے تمام کارکنان کو بھی اللہ تعالیٰ جزا دے جو سامنے تو نہیں آتے لیکن سکرین کے پیچھے غیر معمولی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔بہر حال میں فرانس کی بات کر رہا تھا۔فرانس میں مخلصین کے درمیان میرے دو دن پلک جھپکتے میں گزر گئے۔پتا نہیں لگا کتنی جلدی گزرے اور سپین کے لئے روانگی ہوئی۔دو دن کے سفر کے بعد سپین ( پید رو آباد) جہاں ہماری مسجد بشارت ہے ، ہم وہاں پہنچے۔وہیں دو دن کے بعد جلسہ بھی شروع ہو نا تھا۔احباب جمع ہوئے تھے۔پرتگال سے بھی احباب جماعت آئے ہوئے تھے۔مراکش سے بھی جماعت کے افراد آئے ہوئے تھے۔پر تگال ابھی تک سپین کے زیر انتظام ہے۔اس لحاظ سے کہ سپین کے مشنری انچارج جو ہیں وہی اب تک پر تگال کی جماعت کو بھی سنبھالتے تھے۔میرے جانے سے پہلے مبلغ کے آنے کی کوشش ہو رہی تھی اور اب وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے پہنچ گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس جماعت کو بھی فعال کرے۔پر تگال میں بھی مسجد کے لئے رقبہ لینے کی کوشش ہو رہی ہے۔تقریباً سودے کے قریب ہے۔اللہ کرے پر تگال میں بھی جلد مسجد بن جائے اور جماعت کی ترقی کا باعث بنے۔پر تگال میں بھی مختلف ممالک سے آئے ہوئے لوگوں کی ایسی بڑی تعداد ہے جو مذہب میں دلچسپی رکھنے والی ہے اور وہاں خاصی تعداد میں بیعتیں بھی ہوئی ہیں۔لیکن سنبھالنے کے لئے اور مزید تبلیغ کے لئے مسجد بہت ضروری ہے۔مسجد بننے سے انشاء اللہ تعالی مقامی لوگوں میں بھی امید ہے تبلیغ کا میدان کھلے گا۔وہاں جو نئے مبلغ گئے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو بھی توفیق دے کہ وہ صحیح طور پر کام کر سکیں۔اسی طرح مراکش کی جماعت کے صدر صاحب بھی بعض افراد کے ساتھ آئے ہوئے تھے۔سپین کے قریب ہونے کی وجہ سے شروع میں سپین کے ذریعے ہی وہاں جماعت قائم کی گئی تھی۔اب ماشاء اللہ یہ جماعت بھی ترقی کی طرف بڑھنے والی جماعت ہے۔اخلاص و وفا میں بھی بڑھ رہی ہے۔اسی طرح سپین میں بھی عربی بولنے والے احمدیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔یہاں بھی چند بیعتیں ہوئیں اور دستی بیعت کا بھی پروگرام بنا۔اللہ تعالیٰ ان سب کے ایمان وایقان میں برکت ڈالے۔ترقی عطا فرمائے۔سپین کا جلسہ ہوا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں جو مہمان آئے تھے وہ بھی بڑا اچھا اثر لے کر گئے۔بعض نے بعد میں مجھ سے ملاقات کی اور اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔میں نے گزشتہ دورہ سپین میں 2005ء میں ویلینسیا میں جماعت کی دوسری مسجد تعمیر کرنے کا اظہار کیا تھا اور جماعت کو تلقین کی تھی۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے قریباً ڈیڑھ سال کے عرصہ کے اندر اندر ہی ایک جگہ ایک پلاٹ اور اس پر بنا ہوا ایک گھر جماعت کو خریدنے کی توفیق عطا فرمائی جو مشن ہاؤس اور سینٹر کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔لیکن وہاں کی کو نسل کی طرف سے بعض روکیں کھڑی کی جارہی تھیں جس کی وجہ سے ابھی تک باوجود مسجد کا