خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 4
خطبات مسرور جلد ہشتم 4 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ یکم جنوری 2010 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب مسیح و مہدی ہونے کا دعویٰ فرمایا اور زمانہ کے امام ہونے کا درجہ پایا تو وہ آنحضرت صلی علیم سے سچے عشق اور درود کی وجہ سے ہی تھا۔جس سے پھر نور کے ستون آسمان سے زمین کی طرف آنے لگے اور یہی تلقین حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں بھی جو آپ کی بیعت میں شامل ہیں فرمائی ہے کہ اگر تمہیں میری بیعت میں آنے کا دعویٰ ہے، اگر تمہیں آنحضرت ملا ل ل ا م سے محبت کا دعویٰ ہے تو خالص ہو کر آنحضرت صلی اسلم پر درود بھیجو اور اپنی استعدادوں کے مطابق پھر تم بھی اس نور سے حصہ لو گے جو خدا تعالیٰ کا نور ہے اور پھر یہی چیز تمہاری دنیا بھی سنوارے گی اور تمہاری آخرت بھی سنوارے گی۔باب پھر احادیث میں آج کے دن کی ایک اور اہمیت کا بھی پتہ چلتا ہے۔یہ مسلم کی حدیث ہے جو حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی الم نے فرمایا کہ خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيْهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ وَفِيْهِ أُخْرِجَ مِنْهَا (مسلم كتاب الجمعة فضل يوم الجمعۃ حدیث 1986 ( یعنی دنوں میں سے بہترین دن جس میں سورج چڑھتا ہے وہ جمعہ کا دن ہے۔اس دن میں آدم پیدا کئے گئے۔اس دن میں جنت میں لے جائے گئے اور اسی دن جنت سے نکالے گئے۔پس اس دن میں برکت سمیٹنے کے بھی مواقع ہیں اور سزا یا محرومی بھی ہو سکتی ہے۔پس آدم کی اولاد کی صوابدید پر ہے کہ اس نے کسی گروہ میں شامل ہونا ہے۔اس دن کے تقدس کا خیال ، دعائیں، درود اور اعمال صالحہ جنت میں لے جانے کا باعث بھی بنیں گے۔اللہ تعالیٰ کے نور سے حصہ لینے والے بھی بنائیں گے اور شیطان کے بہکاوے میں آکر باوجود اس دن کی برکت کے جس طرح آدم کو جنت سے نکلنا پڑا یہی اصول ابن آدم کے لئے بھی ہے۔اگر نیکیوں کی طرف توجہ رہے گی۔دعاؤں اور درود کی طرف توجہ رہے گی تو جنت کی طرف قدم بڑھتے رہیں گے۔یہ دنیا بھی جنت بن جائے گی اور آخرت میں بھی جنت کی خوشخبری اللہ تعالیٰ دیتا ہے۔اگر انسان برائیوں میں مبتلا ہوگا تو پھر اللہ تعالیٰ جنت سے نکلنے کی خبر دیتا ہے۔یہ دنیا بھی پھر جہنم بن جاتی ہے۔پس اس دن کی اہمیت نیک نیتی سے کئے گئے اعمال صالحہ کے ساتھ مشروط ہے اور ہزاروں ہزار درود ہوں اس محسن پر جس نے آدم کی اولاد کو دنیوی اور اخروی جنتوں کے راستے دکھائے جیسا کہ میں نے احادیث بیان کرتے ہوئے ذکر کیا ہے کہ خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور کی گئی دعائیں اور درود ان جنتوں کا وارث بناتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں بھی رکھی ہیں اور آخرت میں بھی رکھی ہیں۔پس جمعہ کی اہمیت اور جنت میں داخل ہونا یا نکلنا اعمال کے ساتھ مشروط ہے۔دنیوی اور اخروی جنتوں کا قرآن کریم میں ایک جگہ یوں ذکر آتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ