خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 3 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 3

خطبات مسرور جلد ہشتم 3 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ یکم جنوری 2010 حقیقی دکھائے۔انسان کو، ایک مومن کو اپنی پیدائش کے مقصد کے حصول کی طرف راہنمائی فرمائی اور راستے دکھائے۔آپ اللہ تعالیٰ کے وہ پیارے تھے جن کی پیروی کرنے والوں سے اور آپ کی سنت پر رنگ میں چلنے والوں سے اللہ تعالیٰ نے محبت کا اعلان فرمایا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: ”جس کی راہ پر چلنا انسان کو محبوب الہی بنا دیتا ہے۔اس سے زیادہ کس کا حق ہے کہ اپنے تئیں روشنی کے نام سے نام سے موسوم کرے۔اسی لئے اللہ جلشانہ نے قرآن شریف میں آنحضرت صلی الی یوم کا نام نور رکھا ہے۔جیسا کہ فرماتا ہے: قد جَاءَكُم مِّنَ اللهِ نُورُ (المائدہ : 16) یعنی تمہارے پاس خدا کا نور آیا ہے“۔(سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب، روحانی خزائن جلد 12 صفحہ نمبر 372) پس یہ خدا تعالیٰ کا ہم پر بہت بڑا احسان ہے۔ہمیں چاہئے کہ ہم اس نور کی روشنی سے سے حصہ لینے والے بنیں۔اور اس کا ایک بہترین طریق آپ صلی الینی ایم نے جمعہ کے دن کی مناسبت سے ہمیں سکھایا ہے تاکہ ہماری دعائیں اللہ تعالیٰ کے حضور قبولیت کا درجہ پائیں۔مجھے پر بہت درود بھیجا کرو ایک حدیث میں حضرت اوس بن اوس بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی ایم نے فرمایا کہ دنوں میں سے بہترین دن جمعہ کا دن ہے۔اس دن مجھ پر بہت زیادہ درود بھیجا کرو۔کیونکہ اس دن تمہارا یہ درود میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔(ابو داؤد کتاب الصلوۃ باب تفریع ابواب الجمعة حديث 1047) خدا تعالیٰ آپ کو بتاتا ہے کہ دیکھ اے میرے پیارے محمدصلی الم تیری امت کے لوگ شکر گزاری کے جذبات سے پر اور اپنے عمال کو قرآنی تعلیم اور تیرے اُسوہ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہوئے اس بابرکت دن میں تجھ پر درود بھیج رہے ہیں جس کی ایک خاص اہمیت ہے۔اس لئے میں ان لوگوں سے پیار کا سلوک کرتے ہوئے ان کی دعائیں قبول کرتا ہوں اور پھر میں نے بھی ان کو حکم دیا تھا کہ تجھ پر درود بھیجیں کیونکہ اللہ اور اس کے فرشتے بھی تجھ پر درود بھیجتے ہیں۔جب ان مومنین نے میرے حکم کی تعمیل کی ہے اور میری رضا کے حصول کے لئے میرے پیارے پر درود بھیجا ہے تو میں بھی ایسے عبادت گزاروں کی دعائیں سنتا ہوں اور سنوں گا۔پس آج کے درُود اور آج کی گئی دعائیں جب اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گی تو اللہ تعالیٰ کے پیار کو سمیٹنے والی ہوں گی۔آنحضرت صلی الم کی خدمت میں پیش کیا جانے والا درود بشر طیکہ خالص ہو کر آنحضرت صلی ال ولیم کے عشق میں فنا ہو کر بھیجا جائے آنحضرت صلی اللہ وسلم کی شفاعت سے سبج کر پھر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوتا ہے۔