خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 2
خطبات مسرور جلد ہشتم 2 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ یکم جنوری 2010 خالص ہو کر، اللہ تعالیٰ کی مدد مانگتے ہوئے، اس کے آگے جھکیں گے۔اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔بیشک آج جمعہ کا دن ہے اور یہ دن بہت بابرکت دن شمار ہوتا ہے اور اس لحاظ سے یہ نیا سال جو آج شروع ہو رہا ہے ایک انتہائی بابرکت دن سے شروع ہو رہا ہے۔جمعہ کے دن کی اہمیت آنحضرت صلی الم نے بھی اس دن کی اہمیت کے بارے میں بعض ارشادات فرمائے ہیں۔لیکن ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ باوجود اس کی اہمیت کے جس طرح حقیقی مومن اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، غیر مومن فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔دن تو وہی ہے۔ایک مومن اس دن کو اپنی نجات کا باعث بنانے کی کوشش کرتا ہے۔لیکن غیر مومن صرف یہ جانتا ہے کہ یہ ہفتہ کے سات دنوں میں سے ایک دن ہے۔ایک مومن آنحضرت صلی علی ایم کے اس ارشاد کو ہمیشہ پیش نظر رکھتا ہے جس کا حدیث میں بھی ذکر آتا ہے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ حدیث مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی علی کریم نے جمعہ کا ذکر کیا اور فرمایا۔اس میں ایک ایسی گھڑی آتی ہے کہ جب مسلمان کو ایسا وقت میسر آئے اور وہ کھڑا نماز پڑھ رہا ہو تو جو دعا مانگے قبول کی جاتی ہے۔آپ نے ہاتھ کے اشارہ سے بتایا کہ یہ وقت بہت ہی مختصر ہوتا ہے۔(موطا امام مالک۔کتاب الجمعۃ باب ما جاء في الساعة التي في يوم الجمعة حدیث:242)۔پس مومن تو اس دن میں اپنی دعا کی قبولیت کے نظارے دیکھتا ہے اور غیر مومن اپنے لہو و لعب میں لگا ہوتا ہے۔سال کا پہلا دن جمعہ کی وجہ سے مومن کے لئے تو اور بھی اہم ہو گیا ہے کہ وہ اس دن کو اپنی دعاؤں سے سجاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے ، رات کو بھی اپنی عبادت سے زندہ کرتے ہوئے نئے سال کا استقبال کر رہے ہیں جو انتہائی برکت والے دن سے شروع ہو رہا ہے۔جبکہ غیر مومن جس کو نہ جمعہ کی اہمیت کا علم ہے، نہ نئے سال کے استقبال کے طریقے کا پتہ ہے، اس کو صرف یہ غرض ہے کہ نئے سال کی پہلی رات اور گزرے سال کی آخری رات کو یہ وقت لہو و لعب، شور شرابا اور شراب کے جام پہ جام چڑھانے میں گزارنا ہے۔پس خوش قسمت ہیں ہم جو آنحضرت صلی علیم کی اُمت میں سے ہیں۔ہم اس رسول صلی ال نیم کے۔ماننے والے ہیں جو سراپا نور تھے اور ہیں۔جنہوں نے ہمیں خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے راستے