خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 174 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 174

خطبات مسرور جلد ہشتم 174 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 اپریل 2010 تعداد ایسی بھی ہے جن کو خدا تعالیٰ کے وجود پر ہی یقین نہیں۔اللہ تعالی کی ہستی پر ہی یقین نہیں ہے۔پس ہر طبقہ کے لحاظ سے ان کو تبلیغ کی ضرورت ہے۔بیشک یہاں کی اکثریت مذہب سے دوری کے باوجو د کیتھولک اثر کے تحت اور ایک لمبا عرصہ عیسائیت کے زیر اثر رہنے کی وجہ سے اور اس ظالمانہ تاریخ کی وجہ سے جو مسلمانوں کو زبر دستی عیسائی بنانے کی ثابت ہے ، اور بعض خاندانوں اور قبیلوں میں یہ ظالمانہ قصے چلتے بھی چلے جارہے ہیں ، اب بھی روایتاً چل رہے ہیں، اسلام کے بارہ میں یہ لوگ اس وجہ سے سنا بھی نہیں چاہتے۔لا تعلق ہیں یا خوفزدہ ہیں۔لیکن اب بعض جگہ اس ملک میں بھی عیسائیت یا مذہب کے متعلق بے چینی کا اظہار ہونا شروع ہو گیا ہے۔بلکہ ڈاکٹر منصور صاحب نے مجھے بتایا کہ ویلنسیا میں چار سو سالہ کوئی تقریب منائی جارہی ہے اس میں یہ بھی اظہار ہو گا کہ ہم نے مسلمانوں کا جو جینو سائیڈ (Genocide) کیا یا بڑے وسیع پیمانے پر قتل عام کیا ہے ، وہ غلط تھا اور ہمیں اس کی معافی مانگنی چاہئے۔تو یہ احساس جو اب ابھر رہا ہے اس کو مزید ابھارنے کے لئے ہمارے پاس ایسا لٹریچر اور تبلیغی کوشش ہونی چاہئے کہ اسلام کی خوبصورت تعلیم تو یہ ہے جو پیار، محبت اور بھائی چارہ سے رہنے اور مذاہب کے عزت واحترام کی تلقین کرتی ہے۔جو کچھ ہو وہ یقیناً ظلم تھا۔تو یہ ایک تعارف کا ذریعہ بنے گا۔عیسائیت کو چھیڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔بڑی حکمت سے اسلام کی خوبیاں بیان کرنے کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ اسلام کا تعارف ہو۔اور پھر یہ بتایا جائے کہ اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آکر اسلام کا یہ صحیح رخ پیش کیا ہے جو دنیا کی نجات کا باعث بنے والا ہے۔یہ حالات جب خدا تعالیٰ نے پیدا فرمائے ہیں تو اللہ تعالیٰ اب یہ موقع عطا فرمارہا ہے اور جن کے سپر داس زمانہ میں اسلام کی تبلیغ کا کام کیا گیا ہے ان کو یہ موقع دیا جارہا ہے کہ وہ اس سے فائدہ اٹھائیں اور اس ملک میں اسلام کی کھوئی ہوئی عظمت کو دوبارہ قائم کرنے کی کوشش کریں۔اور یہ اس وقت ہو گا جب یہاں رہنے والوں میں سے ہر ایک احمدی کو یہ احساس ہو گا کہ دعوت الی اللہ ہماری ذمہ داری ہے۔صرف اس بات پر نہ بیٹھے رہیں کہ یہ لوگ مذہب سے لا تعلق ہیں یا کیتھولک اثر کی وجہ سے اسلام کا پیغام سنا نہیں چاہتے۔کیا چالیس پچاس یا ساٹھ سال پہلے کوئی تصور کر سکتا تھا کہ مسلمانوں کو آزادی سے یہاں تبلیغ کی اجازت مل سکتی ہے یا ہم مسجد بنا سکتے ہیں۔کیا یہ تصور ہو سکتا تھا کہ ایک وقت آئے گا کہ جب انہیں مسلمانوں پر ظلموں کی وجہ سے شرمندگی کا احساس ہو گا اور معافی مانگنے کے اظہار کئے جائیں گے۔پس یہ کام خدا تعالیٰ کے ہیں، جب چاہتا ہے کہ سعید فطرت لوگوں کو حق پہچاننے کی توفیق ملے تو ایسی ہوا چلاتا ہے کہ دل خود مائل ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔دلوں کو مائل کرنا خدا تعالیٰ کا کام ہے اور تبلیغ کر نا انبیاء کے ساتھ الہی جماعتوں کے افراد کا کام ہے۔پس ہمارا کام یہ ہے کہ اپنے ملک کے حالات کے مطابق یہاں تبلیغ کے نئے نئے راستے تلاش کریں۔مربیان کے ہفتہ میں ایک دن یا سال میں چند دنوں کے تبلیغی پروگرام بنانے سے پیغام نہیں پہنچ سکتا۔وسیع اور باہمت منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ٹارگٹ مقرر