خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 1
خطبات مسرور جلد ہشتم 1 1 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ یکم جنوری 2010 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم جنوری 2010ء بمطابق یکم صلح 1389 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح ، لندن (برطانیہ) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَامِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفَلَيْنِ مِنْ رَّحْمَتِهِ وَيَجْعَلْ لَّكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ وَ يَغْفِرُ لَكُمْ وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ( الحديد: 29) آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے سال 2010ء کا پہلا دن ہے اور اس پہلے دن میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں جمعہ کے دن داخل کیا ہے جو دنوں میں سے ایک بہت مبارک دن ہے۔اصل عید اور خوشی کا دن ہر اس لحاظ سے سب سے پہلے تو میں آپ سب کو نئے سال کی مبارکباد دیتا ہوں۔اللہ تعالیٰ لحاظ سے ہر احمدی کے لئے یہ سال اور آئندہ آنے والا ہر سال مبارک فرماتا چلا جائے۔ہم ہر سال کی مبارکباد ایک دوسرے کو دیتے ہیں لیکن ایک مومن کے لئے سال اور دن اس صورت میں مبارک ہوتے ہیں جب وہ اس کی توبہ کی قبولیت کا باعث بن رہے ہوں اور اس کی روحانی ترقی کا باعث بن رہے ہوں، اس کی مغفرت کا باعث بن رہے ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی ایک جگہ فرمایا ہے کہ اصل عید اور خوشی کا دن اور مبارک دن وہ ہوتا ہے جو انسان کی توبہ کا دن ہوتا ہے۔اس کی مغفرت اور بخشش کا دن ہوتا ہے۔جو انسان کو روحانی منازل کی طرف نشاندہی کروانے کا دن ہوتا ہے۔جو دن ایک انسان کو روحانی ترقی کے راستوں کی طرف راہنمائی کر نے والا دن ہوتا جو دن حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ دلانے والا دن ہوتا ہے۔جو دن اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور استعدادوں کو بروئے کار لانے کی طرف توجہ دلانے والا دن ہوتا ہے۔جو دن اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے لئے عملی کوششوں کا دن ہوتا ہے۔پس ہمارے سال اور دن اُس صورت میں ہمارے لئے مبارک بنیں گے جب ان مقاصد کے حصول کے لئے ہم ہے۔