خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 171 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 171

خطبات مسرور جلد ہشتم 171 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 اپریل 2010 جب تک ان کو دعاؤں سے نہیں سینچو گے۔توحید کے قیام اور دین واحد کے پھیلنے کا اصل ذریعہ روحانی ترقی ہے۔اور روحانی ترقی اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک تم دعاؤں کے ذریعہ خدا تعالیٰ سے اپنا تعلق پیدا نہیں کرتے۔وہ کام جو خدا تعالیٰ کی خاطر اس کی طرف بلانے کے لئے ہو رہا ہو ، وہ کام جو خد اتعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ ہو ، اس کو تم کس طرح اس سے زندہ تعلق پیدا کئے بغیر سر انجام دے سکتے ہو۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں اس بنیادی نکتہ کی طرف توجہ دلائی ہے کہ دعاؤں سے کام لو، دعاؤں سے کام لو کہ اس کے بغیر کامیابی یقینی نہیں ہو سکتی، اس کے بغیر مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑا واضح فرمایا ہے کہ ہماری فتح تو ہونی ہی دعاؤں کے ذریعہ سے ہے۔لیکن ساتھ ہی تبلیغ کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔کوشش کے ساتھ دعا ہو تو پھر پھل لگتے ہیں۔اور دعا کے ساتھ اپنی حالتوں کی طرف توجہ کرنی بھی ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ نے جب تبلیغ کی طرف توجہ دلائی ہے تو ساتھ ہی تبلیغ کرنے والوں کو عملی حالت کی درستی کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔فرمایا۔وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَ قَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ (لحم السجدۃ:34)۔اور بات کہنے میں اس سے بہتر کون ہو سکتا ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک اعمال بجا لائے۔اور کہے کہ میں یقیناً کامل فرمانبرداروں میں سے ہوں۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بہترین بات جو تم کرتے ہو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینا ہے۔باقی تمام کام ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔جو ذرائع میسر ہیں انہیں کام میں لاؤ اور جب موقع ملے ، ان بہترین لوگوں میں شامل ہونے کی کوشش کرو جو خدا تعالیٰ کی طرف بلاتے ہیں اور پھر خدا تعالیٰ کی طرف بلانے کے لئے اپنے عمل کی طرف بھی توجہ رکھو۔وہ نیک اعمال بجالانے کی کوشش کرو جن کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔قرآنِ کریم میں سینکڑوں ایسے احکامات ہیں۔بعض حکم ہیں جن کے کرنے کا ایک مومن کو حکم ہے۔بعض باتیں ہیں جن کو نہ کرنے کا ایک مومن کو حکم ہے۔تو جب ایک انسان ان چیزوں کے کرنے سے رکتا ہے جن سے خدا تعالیٰ نے روکا ہے اور ان چیزوں کو بجالانے کی کوشش کرتا ہے جن کے کرنے کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے تو یہ اعمالِ صالحہ ہیں۔اب اگر ہم جائزہ لیں تو بہت سی باتیں نیکی کی ایسی ہیں روز مرہ کے گھر یلو معاملات میں بھی، معاشرے کے معاملات میں بھی ، جماعتی طور پر نظام کی پابندی کرنے کے بارے میں بھی اور عبادات بجالانے میں بھی جو ہم نظر انداز کر دیتے ہیں۔تو ایک داعی الی اللہ کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ اس کی ایک شرط اور بہت اہم شرط اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ نیک اعمال بجالانے والا ہو۔اپنے نیک عمل ہوں گے تو تب ہی دوسروں کو بھی نیکی کی طرف بلایا جا سکتا ہے۔دوسرے کو بھی کہا جا سکتا ہے کہ آؤ میں تمہیں دکھاؤں کہ اللہ تعالیٰ کے ایک فرستادہ نے، ایک شخص نے جو اس زمانے کی اصلاح کے لئے آیا ہے، مجھے ایسے راستے