خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 170 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 170

خطبات مسرور جلد ہشتم 170 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 اپریل 2010 پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جس مقصد کے لئے بھیجے گئے، اس کے حصول کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہماری بھی یہ ذمہ داری لگائی ہے کہ اپنی تمام استعدادوں اور صلاحیتوں کے ساتھ کوشش کریں۔جیسا کہ میں نے کہا ہے آج کل یورپ بلکہ پوری دنیا ہی مذہب کے نام پر شرک میں مبتلا ہے ، یا خدا تعالیٰ کے وجود سے ہی انکاری ہے۔آپ لوگ چونکہ یورپ میں رہتے ہیں اس لئے یورپ کی بات کر رہا ہوں۔اور پھر جیسا کہ میں پہلے بھی اظہار کر چکا ہوں، ایک وقت تو وہ تھا جب اس ملک میں لا إلهَ إِلَّا الله اور اللہ اکبر کی آواز ہر طرف گونجا کرتی تھی۔مختلف جگہوں پر مساجد اس بات کی آئینہ دار ہیں۔مختلف جگہوں پر دیواروں پر جو الفاظ کھدے ہوئے ہیں وہ اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ اس ملک کی فضا میں توحید کے اعلان کی خوشبو رچی بسی ہوئی تھی۔لیکن ہمارے ہی لوگوں کی روحانی گراوٹ نے توحید کی حفاظت نہ کر سکنے کی وجہ سے جہاں اپنی ذلت کے سامان کئے وہاں اس ملک کو تثلیث کی جھولی میں ڈال دیا۔اب جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ یہ فیصلہ تو خد اتعالیٰ نے کر لیا ہے کہ دنیا کو توحید پر قائم کرے اور دین واحد کی طرف کھینچے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی ہمیشہ سے یہ سنت ہے اس مقصد کے لئے وہ اپنے فرستادے اور انبیاء بھیجتا ہے۔اس نے اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اسی مقصد کے لئے بھیجا ہے اور ہمیں اپنے خاص فضل اور رحم سے یہ توفیق دی کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں شامل ہوئے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہماری بیعت کو ہماری زندگی کا آخری مقصد قرار نہیں دیا بلکہ فرمایا کہ میرے آنے کا مقصد توحید کا قیام ہے اور دنیا کو دین واحد پر جمع کرنے کے لئے تم میری پیروی کرو تبھی تم اس مقصد کو حاصل کرنے والے کہلا سکتے ہو جو میری بعثت کا مقصد ہے۔لیکن نرمی سے اور نرمی بھی اس وقت آتی ہے جب دلائل پاس ہوں۔ہمارے مخالفین ہمارے خلاف اسی لئے سخت زبان استعمال کرتے ہیں، گالیاں نکالتے ہیں یا سختیاں کرتے ہیں اور ہمارے خلاف طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے کہ ان کے پاس دلائل نہیں ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں فرمایا کہ میں نے تو قرآنی دلائل سے تمہیں اس قدر بھر دیا ہے کہ غصہ میں آنے کی ضرورت ہی نہیں۔اپنی بحثوں میں ، باتوں میں نرمی اختیار کرو۔دنیا پر ثابت کرو کہ اسلام کی تعلیم وہ خوبصورت تعلیم ہے جس کو پھیلنے کے لئے تلوار کی ضرورت نہیں۔یہ تو وہ نور ہے جو ہر سعید فطرت کے دل کو روشن کرتا چلا جاتا ہے۔یہ تو وہ اعلیٰ تعلیم ہے جو اخلاقی معیاروں کو بڑھاتی چلی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ جہاں حقوق اللہ کی ادائیگی کی تعلیم دیتا ہے، وہاں اسلام کی تعلیم حقوق العباد کی طرف بھی خاص طور پر توجہ دلاتی ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک بنیادی بات کی طرف بھی ہمیں توجہ دلا دی کہ یہ پیروی اس وقت تک حقیقی پیروی نہیں کہلا سکتی، تمہاری کوششیں اور تمہاری کاوشیں اس وقت تک ثمر آور نہیں ہو سکتیں