خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 168 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 168

خطبات مسرور جلد ہشتم 168 15 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 اپریل 2010 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 اپریل 2010ء بمطابق 09 شہادت 1389 ہجری شمسی بمقام مسجد بشارت۔پید رو آباد۔سپین تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: گزشتہ خطبہ میں میں نے بتایا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کام احیائے دین ہے۔وہ دین جو زمانہ کے ساتھ ساتھ اپنی عظمت تقریباً کھو چکا تھا۔وہ ساکھ جو اس دین کی تھی وہ اس طرح نظر نہیں آتی تھی، جس پر ہر طرف سے حملے ہو رہے تھے۔مثلاً دنیاوی لحاظ سے اس ملک میں ہی چند صدیوں کے عروج کے بعد ایسا زوال آیا کہ اسلام کا نام ہی اس ملک سے ختم کر دیا گیا اور جو اسلام پر قائم رہنا چاہتے تھے انہیں بھی عیسائی بادشاہوں نے ظلم کا نشانہ بنا کر جبر سے عیسائی بنالیا یا کم از کم ظاہری اقرار کروالیا اور پھر آہستہ آہستہ ان کی نسلوں سے اسلام ختم ہی ہو گیا۔روحانی لحاظ سے اسلام کا یہ حال تھا کہ ہر جگہ عیسائی مبلغین اپنا ز بر دست جال بچھا کر مسلمانوں کو عیسائیت کے جال میں پھانستے چلے جارہے تھے۔یا یوں کہہ لیں کہ مسلمان اپنی روحانی کمزوری کی وجہ سے ان کے جال میں پھنستے چلے جارہے تھے۔ہندوستان جو مسلمان بزرگوں اور اولیاء کی وجہ سے اسلام کا قلعہ کہلاتا تھا اس میں بھی لاکھوں مسلمان عیسائیت کی آغوش میں جا کر خود روحانی موت کی آغوش میں گر رہے تھے۔اُس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرما کر اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے سامان پیدا فرمائے اور آپ نے اللہ تعالیٰ سے علم پا کر تمام مذاہب کے ماننے والوں پر اسلام کی خوبصورت تعلیم کا سب مذاہب سے اعلیٰ ہونا ثابت فرمایا۔عیسائی پادری جو حضرت عیسی علیہ السلام کو آنحضرت صلی کم پر فوقیت اور برتری دیتے تھے، اس کی حقیقت کو اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سامنے رکھا کہ عیسائی پادری جو چند سالوں میں پورے ہندوستان میں عیسائیت کے غلبہ کی باتیں کرتے تھے ، اپنے دفاع پر مجبور ہوئے۔بلکہ میدان سے ہی بھاگ گئے۔(The Mission by Rev۔Robert Clark M۔A۔page 234۔London Church Missionary Society (دیباچہ تفسیر القرآن از مولانا اشرف علی تھانوی صفحہ 30۔ایڈیشن 1934ء (1904۔Salisbury Sqaure۔E۔C اور اپنے ماننے والوں کو یہ ہدایت دینے لگ گئے کہ احمدیوں سے کسی قسم کی بحث نہیں کرنی۔ورنہ وہ تم پر اسلام کی برتری ثابت کر کے تمہیں تمہارے دین سے برگشتہ کر دیں گے۔(ماخوذ تاریخ احمدیت جلد2 صلحہ عہد ید ایڈ یش مطبوعہ ربو)