خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 167 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 167

خطبات مسرور جلد ہشتم 167 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 اپریل 2010 مراد بخش صاحب کی اہلیہ تھیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ قادیان سے ان کا تعلق تھا اور آپ کے کہنے پر ہی وہ گھر میں خواتین کے لئے کپڑے لے کر آیا کرتی تھیں تا کہ ان کو بازار نہ جانا پڑے اور خاندان میں بیعت بھی سب سے پہلے زینب بی بی صاحبہ نے کی تھی۔ان کے خاوند مراد بخش صاحب بعد میں احمدی ہوئے تھے اور تقسیم ہند کے بعد ( پاکستان بننے کے بعد ) انہوں نے ریل بازار فیصل آباد میں دکان کھولی۔1974ء میں ان کو بڑا شدید نقصان ہوا۔ان کی دکان جلا دی گئی لیکن اللہ تعالیٰ نے پھر فضل فرمایا اور کپڑے کی دکان کے ساتھ ساتھ ان کے بچوں نے جیولری کی دکان بھی کھول لی۔ان کا، خاص طور پر شیخ اشرف پرویز صاحب کا بڑا اخلاص کا تعلق تھا اور اپنے والد کی نیکیوں کو جاری رکھنے والے تھے۔پاکستان میں تو پتہ نہیں ان کا جنازہ کس وقت ہو گا لیکن بہر حال میں ان کی نماز جنازہ غائب ابھی نمازوں کے بعد انشاء اللہ پڑھاؤں گا۔فیصل آباد میں خاص طور پر گزشتہ کچھ عرصے سے احمدیوں کو ظلم کا نشانہ بنایا جار ہا ہے۔یا اغوا کر کے تاوان لیا جاتا ہے یا شہید کر دیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ رحم فرمائے۔پاکستان میں درجنوں لوگ تو بلا مقصد مر رہے ہیں اور ان لوگوں کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ یہ جو ان کی موتیں ہو رہی ہیں یہ کسی ظلم کی پاداش میں ہیں۔اسی ظلم کی پاداش میں ہیں جو احمدیوں سے روا ر کھا جارہا ہے۔ان ظالموں کو پتہ ہونا چاہئے کہ احمدی اگر شہید ہو رہے ہیں تو وہ کسی مقصد کی خاطر شہید ہو رہے ہیں اور ہر شہادت ، شہید کے خاندان کا مقام بڑھانے والی بھی ہے اور جماعت کی ترقی کا باعث بننے والی بھی ہوتی ہے۔یہ شہداء ہمیشہ زندگی پانے والے ہیں۔دشمن سمجھتا ہے کہ ان کو مار دیا حالانکہ ایسا نہیں کیونکہ ان لوگوں کو تو مقام حاصل ہو گیا اور خدا تعالیٰ کی نظر میں بھی یہ زندگی پانے والے ہو گئے۔ہمیشہ کی زندگی پانے والے ہو گئے۔اس خاندان کی شہادتیں بھی انشاء اللہ رائیگاں نہیں جائیں گی اور ہر شہادت رنگ لائے گی۔لیکن اس کے ساتھ میں پاکستان کے احمدیوں کو بھی کہتا ہوں خاص طور پر جو معروف احمدی ہیں کہ بعض حساس علاقوں میں جہاں دشمنی زیادہ ہے اپنے علاقے میں اپنے آنے جانے کے اوقات میں بھی احتیاط کریں۔اللہ تعالیٰ ان شہداء کے درجات بلند فرماتا رہے اور ان سے بے انتہا ر حم اور مغفرت کا سلوک فرمائے اور ان کے جو پسماندگان ہیں ان کو بھی صبر جمیل دے اور ہمت اور حوصلہ عطا فرمائے اور ہمیشہ ان کا حامی و ناصر ہو۔اللہ تعالیٰ پاکستان میں ہر احمدی کو ہر جگہ اپنی حفاظت میں رکھے۔الفضل انٹر نیشنل جلد 17 شمارہ 17 مورخہ 23 اپریل تا29اپریل 2010 صفحہ 5 تا 8 )