خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 160 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 160

خطبات مسرور جلد ہشتم 160 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 اپریل 2010 اظہار بھی کر سکتا ہے اور خدا تعالیٰ کی ناراضگی ایسی ہے جس کا کوئی انسان مقابلہ نہیں کر سکتا۔پس ہمیشہ جائزے لیتے رہیں۔یہ دنیاوی سہولتیں اور آسائشیں اور کشائش جو ہمیں میسر ہیں وہ کہیں دین سے اور خدا سے دور لے جانے کا ذریعہ تو نہیں بن رہیں ؟ اگر بن رہی ہیں تو یہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے۔بہت خوف کا مقام ہے۔پس دنیاوی لحاظ سے بھی ترقی کی طرف اٹھنے والا ہر قدم ہمیں دین میں ترقی کی طرف لے جانے والا ہونا چاہئے۔جب یہ سوچ ہو گی اور اس کے مطابق ہمارے عمل ہوں گے تو ہمارا اٹھنے والا ہر قدم ہمارے اپنے اندر بھی ایک انقلاب پیدا کر رہا ہو گا اور ہمارے ماحول میں بھی انقلاب پیدا کرنے کا ذریعہ بنے گا۔وہ انقلاب پیدا کرنے کا ذریعہ بنے گا جس کا گزشتہ تقریباً آٹھ سو سال سے اس ملک کے لئے خاص طور پر ہم انتظار کر رہے ہیں۔گزشتہ خطبہ میں میں نے ایک حدیث کے حوالے سے آنحضرت صلی علی یم کی ایک فکر کے بارہ میں بتایا تھا۔آنحضرت صلی علیم نے فرمایا تھا کہ مجھے تمہارے لئے یہ فکر نہیں کہ تمہارا غربت و افلاس کس طرح دور ہو گا۔مجھے یہ فکر نہیں کہ میری اُمت کو کشائش ملے گی بھی کہ نہیں۔یہ چیزیں تو تمہیں ایک وقت میں مل ہی جائیں گی۔لیکن اس دنیاوی دولت کے ملنے کی وجہ سے جو اصل فکر مجھے لاحق ہے وہ یہ ہے کہ تم اس دولت میں ڈوب کر ، کشائش میں ڈوب کر ، دنیا کی آسانیوں میں پڑ کر دوسری قوموں کی طرح ہلاک نہ ہو جانا۔( صحیح مسلم کتاب الزهد والرقاق باب الدنيا سجن المؤمن وجنة الكافر حدیث نمبر 7319 ) اب دیکھیں بعض عرب ملکوں کی تیل کی دولت نے انہیں دین سے دور کر دیا ہے۔کہنے کو تو اسلام کے علمبر دار ہیں لیکن ان کے عمل انہیں اس سے دور لے گئے ہیں۔اور اسلام سے اس دوری کا اثر ان لوگوں پر بھی پڑتا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے عرب سے اور خاص طور پر سعودی عرب کے لوگوں سے جو کچھ اسلام سیکھنا ہے وہی اصل اسلام ہے۔الله نائیجیریا میں ایک صاحب نائیجیرین مسلمان جو احمدی نہیں تھے ، حج کر کے آئے لیکن پھر بھی شراب نہ چھوڑی۔اس پر ایک احمدی نے انہیں کہا کہ اب آپ حاجی ہو گئے ہیں اب تو خدا کا خوف کریں اور شراب چھوڑ دیں۔کہنے لگے تم کونسا اسلام مجھے سکھا رہے ہو۔میں نے تو سعودی عرب میں بھی شراب دیکھی ہے اور لوگوں کو مسلمانوں کو پیتے بھی دیکھا ہے۔بلکہ مکہ کے ماحول میں بھی میں نے بعض عرب مسلمانوں کو شراب پیتے دیکھا ہے۔پس یہ آنحضرت صلی لی نام کی اس فکر کی تصدیق ہے جو ایک لحاظ سے پیشگوئی تھی کہ دولت آنے سے میری امت ہلاک نہ ہو جائے۔یہ شراب جسے اُتم الخبائث بھی کہتے ہیں، یعنی برائیوں کی ماں، جسے آنحضرت صلی ا ہم نے اللہ کے حکم سے جب منع فرمایا تو مدینے کی گلیوں میں یہ پانی کی طرح بہنے لگی کیونکہ صحابہ نے ایک ہی وقت میں ، بغیر کسی چوں چرا کے اپنے تمام شراب کے مٹکے توڑ دئے۔(مسلم کتاب الاشر به باب تحريم الخمر و بیان انها تكون من عصير العنب۔۔۔حدیث نمبر 5024-5025)