خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 159
خطبات مسرور جلد ہشتم 159 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 اپریل 2010 اپنے عملی نمونے دکھانے والے ہوں گے اور دعائیں کرنے والے ہوں گے ، اس قدر جلد ہم احمدیت کی ترقی دیکھیں گے۔انشاء اللہ۔اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا ہے اس ملک میں آنے کے راستے بھی ہمارے لئے کھولے۔کہاں وہ زمانہ تھا کہ ایک شخص خلیفہ وقت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے یہاں آیا جب حالات مکمل طور پر مخالف تھے۔اسلام کا نام بھی چھپ کر لیا جاتا تھا کجا یہ کہ تبلیغ کی جائے۔اس مجاہد احمدیت کو مالی لحاظ سے بھی جماعت کی کوئی مدد حاصل نہیں تھی۔خود عطر بیچ بیچ کر اپنا گھر بھی چلایا اور مشن کے اخراجات بھی پورے کئے اور انتظام بھی چلایا۔ایک شوق تھا، ایک جذبہ تھا جس کے تحت ہمارے پہلے مبلغ مکرم کرم الہی صاحب ظفر نے کام کیا۔ہر کام کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے، آخر کار اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے مطابق وہ زمانہ بھی آیا جب ان پابندیوں کا خاتمہ ہوا۔افراد جماعت کو بھی یہاں آکر آباد ہونے کا موقع ملا اور مبلغین کے آنے میں بھی آسانیاں پیدا ہوئیں۔اللہ تعالیٰ نے جماعت کو ایک خوبصورت مسجد بنانے کی بھی توفیق عطا فرمائی۔یہاں آنے والے اگر اپنے جائزے لیں تو ان کے دل گواہی دیں گے کہ باوجود یورپ کے باقی ملکوں کی نسبت معاشی لحاظ سے کم ترقی یافتہ ہونے کے ، سپین میں آکر آباد ہونے والوں کی اکثریت کے مالی حالات بہتر ہوئے ہیں۔پاکستان کی نسبت ذہنی سکون یہاں میسر ہے۔گو یورپ کے یہ ملک بعض اخلاقی برائیوں میں بڑھے ہوئے ہیں۔بعض والدین کو اپنے بچوں کی دینی حالت کے بگڑنے کی یقینا فکر ہے اور یہ جائز فکر ہے۔لیکن اس لحاظ سے میں بات نہیں کر رہا۔میں یہاں مذہبی آزادی کے لحاظ سے ذہنی سکون کی بات کر رہا ہوں۔گو کہ اب یہاں یورپ کے بعض ملکوں میں بھی اس کے بر عکس رجحان شروع ہو چکا ہے۔اکثر ملکوں میں تو ابھی تک ایک لحاظ سے یہ مذہبی آزادی قائم ہے لیکن مذہبی پابندیوں کی ابتداء ہو چکی ہے۔کہیں میناروں پر پابندی لگانے کی وجہ سے، کہیں حجاب پر پابندی لگانے کی وجہ سے۔بہر حال فی الحال عمومی طور پر یہاں آزادی ہے۔کسی حکومت یا قانون کی تلوار یہ کہہ کر نہیں لٹک رہی کہ تم اذان دو گے تو قید کر دئے جاؤ گے یا کلمہ پڑھ کر توحید کا اعلان کروگے تو جیل بھیج دئے جاؤ گے۔پس اس آزادی، سکون اور معاشی بہتری پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور شکر گزاری کرتے ہوئے جلد از جلد اور زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے والے بن جائیں۔یہ دنیاوی ترقیات دین کو بھلانے والی نہ بن جائیں۔دین سے دور لے جانے والی نہ بن جائیں۔یہ نہ سمجھیں کہ ہم پر ہماری کسی خوبی اور صلاحیت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے فضل ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اصل میں تو ہمیں یہ بتایا ہے کہ جن لوگوں کو دنیا والے کشکول پکڑانے کی سوچتے ہیں اللہ تعالیٰ خود اپنی جناب سے ان کے لئے اور ان میں سے اکثر غریبوں کے لئے بھی اور کم کشائش والے لوگوں کے لئے بھی وسعتیں عطا فرماتا ہے۔پس ہر وقت یہ خیال دل میں رہنا چاہئے کہ جو خدا ہمیں اس طرح نواز نے پر قدرت رکھتا ہے وہ ہم سے ہمارے کسی ایسے عمل سے جو اسے پسند نہ ہو ہمارے لئے ناراضگی کا