خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 158
خطبات مسرور جلد ہشتم 158 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 اپریل 2010 پر عمل اور اس کے لئے کوشش انسان کو عموم سے بہت بڑھ کر خدا تعالیٰ کے فضلوں، رحمتوں اور انعاموں کو بطور خاص سمیٹنے والا بنادیتی ہے۔جب اللہ تعالیٰ کی تائیدات ساتھ ہوتی ہیں تو ایک معمولی کوشش کئی سو گنا انعاموں کا وارث بنادیتی ہے۔بلکہ لا انتہا انعاموں کا وارث بنادیتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی یہ تائید افراد کے ساتھ بھی ہے اور من حیث الجماعت، جماعت کے ساتھ بھی ہوتی ہے۔پس کتنے خوش قسمت ہیں ہم میں سے وہ جو خالص ہو کر امام زمان کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس جلسہ میں اس لئے شامل ہوئے ہیں تا کہ اپنے اندر پاک تبدیلیاں بھی پیدا کریں اور اسلام کے غلبہ کے اس تقدیر کا حصہ بھی بن جائیں جس کا پورا ہونا اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کی جماعت کے ذریعہ مقدر کیا ہوا ہے اور ان دنوں میں اس روحانی ماحول اور روحانی مائدہ جو مختلف تقاریر کی صورت میں پیش کیا جائے گا جس کی بنیاد بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے علم کلام پر ہی ہے اور جو خد اتعالیٰ کی خاص تائیدات لئے ہوئے ہے اس سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی دنیا و آخرت سنوارنے والے بن جائیں۔اللہ کرے کہ یہ مقصد ہمیشہ ہر جلسہ میں شامل ہونے والے کے پیش نظر رہے۔کیونکہ یہی مقصد ہے جس کو سامنے رکھتے ہوئے جلسہ میں شامل ہونے کا فائدہ ہے۔ورنہ آپ کا یہاں آنا، تقریریں سنا اور وقتی جوش دکھاتے ہوئے نعرے لگانا بے فائدہ ہے۔پس ہر وقت اپنے جائزے لیتے رہیں، استغفار کرتے رہیں ، درود پڑھتے رہیں تا کہ اپنے اندر انقلاب پیدا کرتے ہوئے اسلام کی تعلیم پھیلانے اور غالب کرنے میں حصہ دار بن کر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے والے ہوں۔ور نہ جیسا کہ میں نے کہا بہت سے جو اپنے دنیاوی کاموں کا حرج کر کے آتے ہیں ان کو کیا فائدہ کہ اپنا حرج بھی کیا اور دین بھی نہ ملا۔پس ان دنوں میں اپنے وقت کا صحیح مصرف کریں، جس مقصد کے لئے آئے ہیں اس مقصد کو پورا کرنے کی کوشش کریں اور جلسے کی برکات اور فیوض سے فائدہ اٹھانے کی بھر پور کوشش کریں۔اگر اس بات کو ہر شامل ہونے والا جوان، بوڑھا، مرد، عورت سمجھ لے تو اس سے نہ صرف آپ کو فائدہ ہو گا بلکہ آپ دیکھیں گے کہ کس طرح آہستہ آہستہ نیک فطرت لوگ اپنی دینی و دنیاوی بقا کے لئے اسلام کی آغوش میں آنا شروع ہو جائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ جس انقلاب نے آنا ہے وہ کسی تلوار یا سیاسی داؤ پیچ سے نہیں آنا بلکہ اپنے اندر پاک تبدیلیاں پید ا کرنے اور دعاؤں سے آنا ہے اور یہی انقلاب ہے جو دائمی انقلاب ہے۔یہی انقلاب ہے جو کسی ایسی سازش کا شکار نہیں ہو گا کہ کسی طرح اور کب موقع ملے کہ اسلام کو اس ملک سے نکالا جائے۔بلکہ لوگوں کی کوشش ہو گی تو یہ کہ کس طرح اسلامی تعلیم کو ہم اپنے اوپر لاگو کریں اور اپنی دنیا و عاقبت سنواریں۔پس آپ لوگ جو چند سو کی تعداد میں اس وقت یہاں ہیں اور اکثریت پاکستانی احمدیوں کی ہے ہمیشہ ذہن میں رکھیں کہ آپ پر ایک بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ آپ کا نمونہ نیک ہو۔آج ہر احمدی کے نمونے نے ہی احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی ہمارے وقت میں، اس زمانے میں، ترقی کی رفتار متعین کرنی ہے۔جس قدر ہم