خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 135 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 135

خطبات مسرور جلد ہشتم 135 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 مارچ 2010 اللہ ہی کا ہے جو آسمان میں ہے اور جو زمین میں ہے اور خواہ تم اسے ظاہر کرو جو تمہارے دلوں میں ہے یا اسے چھپاؤ اللہ اس کے بارہ میں تمہارا محاسبہ کرے گا۔پس جسے وہ چاہے گا بخش دے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا اور اللہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔ایک مومن کا ایمان تبھی مکمل ہوتا ہے جب وہ ہر وقت اپنے نفس پر نظر رکھنے والا ہو اور اس کو اس تعلیم کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے جو خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی علی کلم کے ذریعے ہمیں عطا فرمائی ہے۔ورنہ اس کی ظاہری عبادتیں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔اس کی جماعتی خدمات بھی جو وہ بجالا رہا ہوتا ہے اور جس کو دنیا یعنی اس کے ارد گرد کے لوگ اور معاشرے کے لوگ بعض دفعہ بڑا اسراہ رہے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ جو دلوں کا حال جانتا ہے اسے علم ہے کہ اس کے دل میں کیا ہے۔تو اگر صرف دکھاوے کے لئے ہے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔اگر تبلیغ کر کے پیغام پہنچا رہا ہے لیکن اپنے عمل اس کے مطابق نہیں تو یہ بات بندوں سے تو چھپی رہ سکتی ہے خدا تعالیٰ سے نہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے مومن پر یہ واضح کر دیا کہ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے اور جو پوشیدہ نہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کا اجر بھی اس کے مطابق ہے جو کسی کے اپنے نفس کی کیفیت اور حالت ہے۔اس لئے آنحضرت صلی ا ہم نے بھی فرمایا ہے کہ اِنَّمَا الأعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔( صحیح بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ صلی۔حدیث نمبر 1) یعنی کسی بھی عمل کو اس کی نیت کے مطابق پر کھا جائے گا جو کسی بھی عمل کرنے والے کے دل میں ہے۔اب نیتوں کا حال تو صرف خدا ہی جان سکتا ہے اور جانتا ہے اس لئے مومنوں کو واضح کیا کہ جس خدا نے زمین و آسمان پیدا کیا ہے وہ اس میں موجود ہر چیز کی کنہ تک سے واقف ہے اور انسان بھی اس سے باہر نہیں ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ تمہارے ہر عمل سے جو تم چھپ کر کرتے ہو یا ظاہر کرتے ہو اس سے واقف ہے بلکہ ہر خیال جو تم دل میں لاتے ہو اس سے بھی واقف ہے تو اپنے نفسوں کا تزکیہ کرو۔اپنے دلوں کو خالصتاً خدا تعالیٰ کے لئے پاک کرنے کی کوشش کرو۔پس جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ يُحَاسِبُكُم بِهِ الله (البقره: 285) یعنی اللہ تعالیٰ اس کا حساب لے گا تو اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں فرماتا ہے تمہارے عمل تمہارے دل کی حالت اور نیت کے مطابق جزا پائیں گے۔قرآن کریم میں ایک اور مقام پر خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَ نَضَحُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيِّمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَ إِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ آتَيْنَا بِهَا وَ كَفَى بِنَا حسبِينَ (الانبیاء:48) اور ہم قیامت کے دن ایسا پورا تو لنے والے سامان پیدا کریں گے کہ جن کی وجہ سے کسی جان پر ذرا سا بھی ظلم نہیں کیا جائے گا اور اگر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی کوئی عمل ہو گا تو ہم اسے موجود کر دیں گے اور ہم حساب لینے میں کافی ہیں۔