خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 130 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 130

خطبات مسرور جلد ہشتم 130 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 مارچ 2010 کمزور ہونے کے مسلمانوں نے ایران کی ناقابل شکست تصور کی جانے والی حکومت اور دوسری بڑی بڑی حکومتوں سے ٹکر لی اور انہیں اپنے زیر کیا۔حکومتیں فتح کرنے کے لئے نہیں بلکہ ظلموں کو روکنے کے لئے اس ایمان نے کام دکھایا جو تقویٰ سے پر تھا۔پس ان کو اللہ تعالیٰ نے بے حساب دیا۔لیکن آج غریب اسلامی حکومتیں جو ہیں وہ تو مغربی ممالک کی طرف دیکھتی ہی ہیں۔بظاہر چند ایک جو دولت مند حکومتیں ہیں وہ اپنے حقیقی رہے اور مالک اور معبود کو چھوڑ کر دنیاوی ربوں اور مالکوں اور معبودوں کی طرف نظر کئے ہوئے ہیں۔یہ چیز ظاہر کرتی ہے کہ تقویٰ میں کمی ہے۔جس نے ان لوگوں کو جنہیں خدا تعالیٰ نے دنیا کے لئے رہنما بنایا تھا۔محکوم بنایا اور ایک طرح کی غلامی کی زنجیریں ہیں جن میں یہ مسلمان جکڑے گئے ہیں۔اور یہ بات یقیناً اللہ تعالیٰ کی آخری تقدیر کے خلاف ہے۔اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے إِنَّ اللهَ بَالِغ آمده (الطلاق: (4) کہ یقینا اللہ اپنے فیصلے کو مکمل کر کے رہتا ہے۔اور یہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے جس کا کئی جگہ قرآنِ کریم میں ذکر ہوا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول غالب آتے ہیں (المجادلہ:22)۔دنیا کی تقدیر اب اسلام کے ساتھ وابستہ ہے لیکن کس طرح؟ اس کا جواب یہ ہے۔اس طرح جس طرح صحابہ نے آنحضرت صلی للی نام سے فیض پا کر دنیا کو اپنی لونڈی بنایا تھا اور دین کو دنیا پر مقدم کیا تھا۔تقویٰ کی باریک راہوں کی تلاش کی اور اس پر چلے۔اسلام کی خاطر جان، مال، وقت اور عزت کو قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار ہوئے۔دشمن کے حملوں اور زیادتیوں سے تنگ ہوئے تو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہجرت کی اور پھر اللہ تعالیٰ نے فتوحات کے ایسے دروازے کھولے جن کو شمار کرنا بھی مسلمانوں کے لئے مشکل ہو گیا۔اس کے بعد پھر بغیر حساب دیئے جانے کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں کئی جگہ یوں فرمایا ہے۔فرمایا۔قُلْ لِعِبَادِ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا رَبَّكُمْ لِلَّذِينَ اَحْسَنُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ وَ اَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةُ إِنَّمَا يُوَفَّى الصُّبِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابِ (الزمر:11) ” تو کہہ دے کہ اے میرے بند وجو ایمان لائے ہو! اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو۔ان لوگوں کے لئے جو احسان سے کام لیتے ہیں اس دنیا میں بھی بھلائی ہو گی اور اللہ کی زمین تو وسیع ہے۔یقیناً صبر کرنے والوں کو بغیر حساب کے ان کا بھر پور اجر دیا جائے گا۔“ اس زمانے میں مسلمانوں کی جو حالت زار تھی۔جب اسلام کی ابتداء تھی تو مسلمان مکہ میں انتہائی کسمپرسی کی حالت میں رہتے تھے۔آنحضرت صلی الم کی ذات تک پر کفار ظلم کرنے سے باز نہیں آتے تھے اور غریب مسلمانوں پر تو ظلم کی انتہاء کرتے ہوئے مردوں عورتوں کو شہید بھی کر دیا جاتا تھا۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو فرما رہا ہے۔پہلی بات یہ کہ ایمان کے ساتھ تقویٰ سب سے بنیادی شرط ہے اور پھر فرمایا جو تقویٰ پر چلتے ہوئے تمام نیکیاں بجالانے کی کوشش کرتے ہیں انہیں آخرت کے علاوہ اس دنیا میں بھی اجر ملے گا۔پھر فرمایا۔جب مکہ میں ظلم کی انتہاء ہو گی تو اس ظلم سے بچنے کے لئے تمہارے لئے بہتر ہے کہ ہجرت کر جاؤ۔اور یہ ہجرت جو ہے تمہارے