خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 129
خطبات مسرور جلد ہشتم 129 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 مارچ 2010 زُيِّنَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوا الْحَيَوةُ الدُّنْيَا وَيَسْخَرُونَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَاللَّهُ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابِ (البقرة: 213) کہ جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لئے دنیا کی زندگی خوبصورت کر کے دکھائی گئی ہے۔اور یہ ان لوگوں سے تمسخر کرتے ہیں جو ایمان لائے۔اور وہ لوگ جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا وہ قیامت کے دن ان سے بالا ہوں گے۔اور اللہ جسے چاہے بغیر حساب کے رزق عطا کرتا ہے۔پس یہ آیت جہاں خاص طور پر کافروں کے دنیا کی دولت کو ہی سب کچھ سمجھنے کے بارے میں بتارہی ہے۔وہاں عموم کے رنگ میں ہر دنیا دار کی تصویر کھینچ رہی ہے کہ دنیا دار ایک مومن کو اپنی دولت کی وجہ سے حقیر سمجھتا ہے۔طاقتور بظاہر خدا کے نام پر۔لیکن دراصل دنیا کے نشے میں ڈوب کر کمزور مومنوں پر زیادتی کرتا ہے۔لیکن انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ قیامت کا بھی ایک دن مقرر ہے۔اور اس دن خوب کھل جائے گا کہ ظلم اور تعدی کرنے والے ، اپنی حکومت پر زعم کرنے والے، اپنے گروہ کی طاقت کا اظہار کرنے والے کامیاب ہیں یا وہ مسکین جو خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہر زیادتی برداشت کرنے والے ہیں۔پس یہاں پھر اللہ تعالیٰ نے "وَالَّذِيْنَ اتَّقوا “ جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا کہہ کر اس طرف توجہ دلائی ہے کہ صرف ایمان لانا کافی نہیں ہے بلکہ تقویٰ کا حصول اصل جڑ ہے۔اس کو حاصل کرناضروری ہے۔مومنوں کو اس طرف توجہ دینی چاہئے۔اگر تقویٰ نہیں تو صرف ایمان لانا خدا تعالیٰ کا مقرب نہیں کر سکتا۔آج جب ہم عمومی طور پر عالم اسلام پر نظر ڈالتے ہیں تو باوجود اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ کے کہ جنگوں میں مومنوں کو اللہ تعالیٰ کافروں پر برتری اور فوقیت دیتا ہے۔مسلمانوں کی حالتِ زار کا ہی نمونہ ظاہر ہو رہا ہے۔یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ تقویٰ کی کمی ہے ورنہ خد اتعالیٰ تو وعدہ فرماتا ہے کہ میں ایسے ایسے راستے مومنوں کے لئے کھولتا ہوں جس کا ان کو گمان بھی نہیں ہوتا۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں بغیر حساب دیتا ہوں۔اس بغیر حساب کے دیئے جانے کا نظارہ ہمیں قرونِ اولیٰ میں نظر آتا ہے جب خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کی قربانیوں سے بہت زیادہ بڑھ کر انہیں عطا فرمایا اور جب تک ان میں تقویٰ کا کچھ حصہ بھی قائم رہا اسلامی حکومتوں کا رعب اور دبدبہ قائم رہا۔آج بے شک مادی لحاظ سے بعض اسلامی ممالک کو خدا تعالیٰ نے تیل کی دولت سے مالا مال کیا ہوا ہے لیکن اس کے باوجود مغربی طاقتوں نے معاشی غلامی کا طوق ان کی گردنوں میں ڈالا ہوا ہے۔اور اس وجہ سے غریب مسلمان ممالک کی معیشت کو سنبھالنے میں یہ دولت کام نہیں آرہی یا سنبھالنے کی نیتیں نہیں یا خوف ہے۔جو بھی صورت حال ہے بہر حال مسلمان مسلمان کے اس طرح کام نہیں آرہا جس طرح آنا چاہئے۔اگر کہیں غریب کی مدد کرنی بھی ہو تو پہلے یہ حکومتیں مغربی حکومتوں کی طرف دیکھتی ہیں۔ایک تو وہ زمانہ تھا جب باوجود کمزور ہونے کے فوجی سازو سامان کے لحاظ سے بھی ، تعداد کے لحاظ سے بھی، دولت کے لحاظ سے بھی، ہر لحاظ سے