خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 97
خطبات مسرور جلد ہشتم 97 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 فروری 2010 الْعَظِيمِ (التوبہ: (129)۔پس اگر وہ پیٹھ پھیر لیں تو کہہ دے میرے لئے اللہ کافی ہے۔اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔اسی پر میں تو کل کرتا ہوں اور وہ عرش عظیم کا رب ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس انکار کا اور منہ پھیر کر چلے جانے والوں کا کوئی نقصان نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرما دیا ہے۔کیونکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔اور مذاہب کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ نہ ماننے والے ، منہ پھیر کر چلے جانے والے ہی آفات اور تباہی کا منہ دیکھتے ہیں۔انبیاء کو تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ان کے لئے تو اللہ کافی ہوتا ہے۔وہ تو خدائے واحد کے نمائندہ ہوتے ہیں اور اسی طرح حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے نمائندہ ہیں۔اور آپ خاتم الانبیاء ہیں جن پر شریعت کا مل ہوئی۔آپ پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ نعوذ باللہ آپ اپنی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔تو اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں آپ کا جواب ریکارڈ کر دیا کہ مجھے تو کوئی ضرورت نہیں۔وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظیمِ۔وہ عرش عظیم کا رب ہے اور میں اپنے تخت کے لئے نہیں بلکہ اس عرش عظیم کے رب کے تخت کے قائم کرنے کے لئے کوشش کر رہا ہوں۔میں اپنی کسی طاقت کے اظہار کے لئے تمہیں اپنی طرف نہیں بلا رہا بلکہ اس خدا کی طرف بلا رہا ہوں جو عرش عظیم کا رب ہے۔میں تو اس رب العالمین کا عاشق ہوں۔مجھے دنیا کی عارضی بادشاہتوں سے کیا ؟ نہ عرب میں ، نہ کہیں اور مجھے کسی جگہ بھی دنیا کی حکومت کی ضرورت نہیں۔بلکہ میں تو خدا تعالیٰ کی حکومت قائم کرنے کے لئے بھیجا گیا ہوں اور وہی قائم کروں گا۔کیونکہ وہ حکومت جو دنیا میں قائم ہو گی تو میری حکومت خود بخود قائم ہو جائے گی۔لیکن دنیاوی تختوں پر نہیں بلکہ مومنین کے دلوں پر قائم ہو گی۔اور دنیا نے دیکھا کہ کس طرح آپ کی حکومت لوگوں کے دلوں پر قائم ہوئی۔اور کس طرح آج اس زمانہ میں مسیح محمدی کے ذریعے دنیا میں آنحضرت صلی یلم کے پیغام کو پہنچانے کے لئے اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ پورا فرما رہا ہے ؟ اور آج مسیح محمدی کے ماننے والے آنحضرت صلی اللہ نام کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔اور جس طرح ہمارے آقا نے فرمایا تھا کہ حسبی اللہ کہ میرے لئے اللہ کافی ہے ، یہی نظارے اپنے آقا و مطاع علی تعلیم کی برکت سے ہم دیکھ رہے ہیں۔اور تمام تر مخالفتوں کے باوجو د حسبی اللہ کی ایک نئی شان ہم دیکھتے ہیں۔اور یہ سب اس لئے ہے کہ ہم اپنے آقا صلی علیم کی تعلیم کو ہی آگے پھیلانے والے ہیں۔اسی شریعت کو آگے پھیلانے والے ہیں جو آپ لائے تھے۔اسی قرآنِ کریم کے حکموں کے مطابق اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پھیلانے والے ہیں جو آنحضرت صلی علیہ ہم پر اترا تھا تا کہ دنیا میں پیار، محبت اور بھائی چارے کی فضا پیدا ہو تا کہ دنیا اپنے پیدا کرنے والے خدا پر یقین قائم کرے، تاکہ دنیا میں حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ پیدا ہو اور سلامتی کی فضا ہر طرف قائم ہو۔اور اس مقصد کے لئے حضرت مسیح موعود اس زمانے میں تشریف لائے تھے۔آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : الله