خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 96 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 96

خطبات مسرور جلد ہشتم 96 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 فروری 2010 بڑی خوش قسمتی ہے۔ہم آنحضرت صلی اللی کام کے حکم کے مطابق سلامتی اور خیر سگالی کے جذبات زمانہ کے امام کو پہنچانے والے ہیں۔اور اس لحاظ سے اُن مومنوں میں شامل ہیں جو اپنے آقا کی سنت پر چلتے ہوئے دنیا کی ہمدردی میں نیکی کے راستے دکھانے والے ہیں۔ان کو سیدھے راستے دکھانے کی کوشش میں ہیں اور اس مقصد کے لئے اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالنے والے ہیں۔ایک احمدی کا جان، مال وقت اور عزت کو قربان کرنے کا عہد اسی مقصد کے لئے ہے۔دین کی وجہ سے آج اگر کوئی گھر سے بے گھر ہے تو وہ احمدی ہے۔لیکن آنحضرت علی ایم کے حال کا ذکر فرما کر اللہ تعالیٰ نے یہ فرما دیا کہ تمہارے سے زیادہ ظلم سہنے کے باوجود آنحضرت صلی للی نام ہمدردی کے جذبات سے بھرے ہوئے تھے۔اس لئے تم بھی کبھی اپنے اندر مخالفین کے لئے نفرتوں کے الاؤ نہ جلانا۔کیونکہ تم زمانے کے امام پر ایمان لانے کی وجہ سے اُن لوگوں میں شامل ہو گئے ہو جن کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعائیں کی تھیں اور تا قیامت حقیقی مومنوں کو یہ دعائیں پہنچتی رہیں گی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اپنے زمانہ کے مومنوں کے لئے روؤف در حیم نہیں تھے بلکہ آپ کی اندھیری راتوں کی دعائیں تا قیامت حقیقی مومنوں کو پہنچنے والی تھیں۔اور ان دعاؤں سے حصہ لینے کے لئے اپنی اپنی استعدادوں کے مطابق ہمیں بھی آپس میں مہربانی کے سلوک کو سامنے رکھنا چاہئے۔اور مہربانی کا سلوک کرنا چاہئے۔اور صرف نظر کرتے ہوئے ہمیں اپنے بھائیوں کے لئے عفو اور رحم کے نمونے دکھانے ہوں گے تا کہ اُس معاشرہ کے قیام کی کوشش کر سکیں جس کی بنیاد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈالی تھی۔الله سة حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: ”جذب اور عقدِ ہمت ایک انسان کو اس وقت دیا جاتا ہے جبکہ وہ خدا تعالیٰ کی چادر کے نیچے آجاتا ہے اور ظل اللہ بنتا ہے پھر وہ مخلوق کی ہمدردی اور بہتری کے لئے اپنے اندر ایک اضطراب پاتا ہے۔ہمارے نبی کریم صلی لیکر اس مرتبہ میں کل انبیاء علیم اسلام سے بڑھے ہوئے تھے اس لئے آپ مخلوق کی تکلیف دیکھ نہیں سکتے تھے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ (اتوبہ :128)۔یعنی یہ رسول تمہاری تکالیف کو دیکھ نہیں سکتا“۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 341 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ) فَاتَّبِعُونِي کے حکم کے تحت اپنی اپنی استعدادوں کے مطابق ہمارا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ اس سوچ اور جذبات کو اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کریں اور دنیا کو فیض پہنچانے کی حتی المقدور کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ توبہ کی آخری آیت میں پھر بیان فرمایا ہے کہ اے نبی ! تیر اہمدردی کرنا، تیرا پیغام پہنچانا نہ ماننے والوں پر ، کفار پر اگر کوئی اثر نہیں ڈالتا اور اپنی زیادتیوں اور ظلموں اور استہزاء میں اگر وہ بڑھتے رہیں اور تیری باتوں کو توجہ سے نہ سنیں اور اس کی طرف توجہ نہ دیں، پیٹھ پھیر کر چلے جائیں تو تو کہہ دے اللہ مجھے کافی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَإِن تَوَلَّوا فَقُلْ حَسْبِيَ اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ b