خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 95
خطبات مسرور جلد ہشتم 95 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 فروری 2010 دنیا میں پھیلتا ہے ؟ اور جب یہ ہو گا تو یہ مسلمانوں کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ نام کے عظیم خیر سگالی کے پیغام کو جو آپ دنیا کی بھلائی کے لئے آپ لے کر آئے تھے ، اس کے اعلیٰ رنگ میں پھیلانے کی کوشش ہو گی۔کاش کہ مسلمان اس نکتہ کو سمجھیں۔اور ہم اسلام کے اس پیغام کو جو زندگی کا پیغام ہے آنحضرت صلی للہ ہم اور آپ کے غلام صادق کی بیعت میں آکر دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے کی بھر پور کوشش کریں۔یہ ہمارا ہی فرض بنتا ہے اور یہی ہماری ذمہ داری ہے کیونکہ ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ کی اس کے لئے اس شدت سے درد رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں اس بات کو بیان فرمایا ہے اور سورۃ توبہ کی ایک آیت میں فرمایا: لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ انْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمُ (التوبہ : 128) کہ یقیناً تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آیا۔اسے بہت سخت شاق گزرتا ہے جو تم تکلیف اٹھاتے ہو۔(اور) وہ تم پر ( بھلائی چاہتے ہوئے) حریص (رہتا) ہے۔مومنوں کے لئے بے حد مہربان (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔پس اس آیت میں مومنوں اور غیر مومنوں دونوں کے لئے آپ کے نیک جذبات کا ذکر فرمایا گیا۔میں نے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جو اقتباس پڑھا تھا۔وہ اصل میں اپنے آقا و مطاع حضرت محمد صلی علیکم کی پیروی میں ایک جذبات کا اظہار تھا۔یہاں دیکھیں کہ آنحضرت صلی اللی علم کے انسانیت کے لئے درد اور نیک جذبات کو اللہ تعالیٰ نے کس طرح بیان فرمایا ہے۔غیر مسلموں اور کفار کو بھی فرمایا کہ یہ بات اس رسول یعنی آنحضرت صلی علیم کے لئے نہایت صدمہ کا باعث بنتی ہے۔جب آپ صلی علیہ یکم ایمان نہ لانے والوں کو مشکلات میں دیکھتے ہیں۔باوجود اس کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم نے اس عظیم رسول صلی علی میں کم اور آپ کے ماننے والوں کو تکلیفیں پہنچانے، مارنے ، قتل کرنے، کھانا پانی بند کرنے میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑا لیکن پھر بھی آنحضرت صلی اللہ سلم کا دل ان بیوقوفوں کے لئے ، ان ظالموں کے لئے ان کی تکلیف میں اس طرح جوش مارتا ہے جس طرح ایک ماں کا دل اپنے بچے کو تکلیف میں دیکھتا ہے۔کسی بھی قسم کی زیادتیاں اور سختیاں جو کفار کی طرف سے بجالائی جاتی رہیں۔اس نے اس دلی ہمدردی کو آنحضرت صلی ال ولیم کے دل سے دور نہیں پھینک دیا۔یہ ہمدردی کا جذبہ ہی ہے جس کے بارہ میں اللہ تعالیٰ کافروں کو مخاطب ہو کر فرماتا ہے کہ اے کا فرو اور منکر و! یہ دلی ہمدردی کا جذبہ ہے جو آنحضرت علی تعلیم کو تمہارے لئے فکر میں رکھتا ہے کہ کاش تم لوگ سیدھے راستے کی طرف آجاؤ اور ہدایت پا جاؤ اور اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچ جاؤ۔پس یہی جذبہ آج کل آنحضرت علی ایم کے عاشق صادق کو ماننے والوں کی جماعت کا ہونا چاہئے کہ نہ صرف ایک لگن سے غیروں کو پیغام پہنچانے کی کوشش کریں بلکہ خاص دعاؤں سے اپنی ان کوششوں کے ثمر آور ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں۔آنحضرت صلی اللی علوم کے عاشق صادق کی جماعت میں آنا ہماری ایک بہت