خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 87
خطبات مسرور جلد ہشتم 87 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 فروری 2010 حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے بارہ میں مختار احمد صاحب ہاشمی ذکر کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے ہدایت فرمائی کہ اگر آپ کی نظر میں کوئی امداد کا مستحق ہو اور وہ خود سوال کرنے میں حجاب محسوس کرتا ہو تو ایسے افراد کا نام آپ اپنی طرف سے پیش کر دیا کریں۔مگر یہ خیال رہے کہ وہ واقعی امداد کا مستحق ہے۔چنانچہ میں اس عرصہ میں ہر موقع پر مستحق افراد کے نام پیش کر کے انہیں امداد دلوا تارہا ہوں۔ایک دفعہ حضرت میاں صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چند غرباء کو رقم بطور امدادادا کرنے کی مجھے ہدایت فرمائی۔مگر میں خاموش ہو رہا اس پر حضرت میاں صاحب نے میری طرف دیکھتے ہوئے میری خاموشی کی وجہ دریافت فرمائی۔میں نے عرض کیا کہ امدادی فنڈ ختم ہو چکا ہے اور کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔آپ نے مشفقانہ نگاہوں سے میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے فرمایا کہ گھبر ائیں نہیں۔رقم اوور ڈرا (Overdraw) کروالیں اور ان لوگوں کو ادا کر دیں۔اللہ تعالیٰ بہت روپیہ دے گا چنانچہ اگلے چند دنوں میں ہی اس مد میں سینکڑوں روپے آگئے۔(ماخوذ از حیات بشیر مصنفہ عبد القادر سابق سوداگر مل صفحہ 271 مطبوعہ۔ضیاء الاسلام پریس ربوہ ) صباح الدین صاحب کی حضرت مرزا شریف احمد صاحب کے بارہ میں ایک روایت ہے۔کہتے ہیں میں نے ان سے خود سنا ہے جب آپ انگلستان تشریف لائے تو اس دوران مختلف سفر بھی ہو رہے تھے۔ایک کارخانہ بھی قادیان میں لگنا تھا شاید اس کے لئے کچھ چیزیں بھی خرید رہے تھے۔یا اور معلومات لے رہے ہوں گے۔بہر حال سفر کے دوران آپ نے اپنے ساتھ مدد کے لئے ایک انگریز بھی رکھا ہوا تھا۔اس نے بتایا کہ سفر خرچ کا جو فنڈ ہے وہ ختم ہو رہا ہے اور اب سفر جاری رکھنا مشکل ہے۔تو آپ نے فرمایا : فکر نہ کرو۔انشاء اللہ انتظام ہو جائے گا۔تو وہ شخص جو انگریز تھا۔بہت حیران ہوا کہ اس ملک میں آپ اجنبی ہیں اور پھر یہاں رقم کا کیسے انتظام ہو سکے گا۔حضرت میاں صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے خدا سے دعا کی کہ خدا تو ہی اس پر دیس میں ہماری مدد فرما۔فرماتے ہیں کہ اگلے ہی روز ہم بازار سے جا رہے تھے کہ ایک شخص نے آپ کو روک لیا اور سینٹ سینٹ (Saint,Saint) پکارنے لگا۔جس کے معنی ہیں ولی۔اور ایک بڑی رقم کا چیک آپ کی خدمت میں پیش کر کے آپ سے دعا کی درخواست کی۔تو وہ شخص جو آپ کا مددگار تھا اس واقعہ سے بڑا حیران ہوا اور کہنے لگا کہ واقعی آپ لوگوں کا خدانرالا ہے۔(ماخوذ از سیرت حضرت مرزا شریف احمد صاحب صفحہ 86-85 مطبوعہ ربوہ) حضرت شیخ فضل احمد صاحب بٹالوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سفر ڈلہوزی میں میرے ہمراہ میری اہلیہ اول، ان کے بھائی اکبر علی صاحب اور میرے بھائی امیر احمد صاحب سفر کر رہے تھے۔ہم ایک سرکاری پردہ دار بیلوں والے ٹانگہ میں تھے۔تین چار ٹانگے ہند و کلرکوں کے بھی تھے۔اس زمانہ میں وہی ذریعہ آمد ورفت تھا، لمبا سر کاری سفر تھا۔تو ہم شام کے وقت ڈنیرا کے پڑاؤ پر پہنچے۔وہاں کے ہندو سٹور کیپروں نے اپنے ہندو بھائیوں کو خیمے دے دیئے جن میں ان کے اہل و عیال اُتر پڑے اور میں کھڑا رہ گیا۔ہر چند اِدھر اُدھر مکانات اور