خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 74 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 74

خطبات مسرور جلد ہشتم 74 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 5 فروری 2010 حیرت ہوتی ہے کہ بڑے بڑے پڑھے لکھے بھی ہیں، خدمت کرنے والے بھی ہیں اور ایسی باتیں کر جاتے ہیں جو جاہل اجڈ عورتیں بھی نہیں کرتی ہوں گی۔چھوٹے چھوٹے شکووں کو اتنازیادہ اپنے اوپر سوار کر لیا جاتا ہے۔بلکہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری زندگی میں اس سے بڑی بات ہی کوئی نہیں ہے۔اور اس سے نہ صرف اپنے کاموں میں حرج کر رہے ہوتے ہیں۔ایسی سوچوں کے ساتھ اپنی زندگی بھی اجیرن کر رہے ہوتے ہیں بلکہ ادھر اُدھر باتیں کر کے جس کے خلاف شکوہ ہو تا ہے اس کی زندگی بھی اجیرن کر رہے ہوتے ہیں۔اور بعض دفعہ ایسے معاملات میرے پاس بھی آجاتے ہیں اور جب تحقیق کرو تو کچھ بھی نہیں نکلتا۔بڑی معمولی سی بات ہوتی ہے۔پھر بعض معاملات ایسے ہوتے ہیں کہ ان کا شکایت کرنے والے کے ساتھ براہ راست معاملہ بھی نہیں ہوتا۔ادھر سے بات سنی ادھر سے بات سنی، تجسس والی طبیعت ہے شوق پیدا ہوا کہ مزید معلومات لو اور ادھ پچری جو معلومات ملتی ہیں ان کو پھر فوراً اپنے پاس سے حاشیہ آرائی کر کے اچھالا جاتا ہے۔تو جب کسی کے بارہ میں باتیں کی جاتی ہیں اور انہیں اچھالا جاتا ہے تو اس شخص بیچارے کی زندگی اجیرن ہوئی ہوتی ہے کیونکہ اس ماحول میں اس کو دیکھنے والا ہر شخص ایسی نظر سے دیکھ رہا ہوتا ہے جیسے وہ بہت بڑا گناہگار انسان ہے۔وہ چھپتا پھرتا ہے۔بعض دفعہ ایسے حالات پید اہو جاتے ہیں۔بہر حال یہ ایک ایسا گناہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے سختی سے منع فرمایا ہے۔ہر احمدی کو اس سے بچنا چاہئے۔ا پھر غیبت ایک گناہ ہے جس سے اصلاح کی بجائے معاشرے میں بدامنی کے سامان ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس گندے فعل سے کراہت دلاتے ہوئے فرمایا کہ تم تو آرام سے غیبت کر لیتے ہو۔یہ سمجھتے ہو کہ کوئی بات نہیں ، بات کرنی ہے کرلی۔زبان کا مزا لینا ہے لے لیا۔یا کسی کے خلاف زہر اگلنا ہے اگل دیا۔لیکن یاد رکھو یہ ایسا مکر وہ فعل ہے ایسی مکر وہ چیز ہے جیسے تم نے اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھالیا۔اور کون ہے جو اپنے مردہ بھائی کے گوشت کھانے سے کراہت نہ کرے۔غیبت یہی ہے کہ کسی کی برائی اس کے پیچھے بیان کی جائے۔پس اگر اس شخص کی اصلاح چاہتے ہو جس کے بارہ میں تمہیں کوئی شکایت ہے تو علیحدگی میں اسے سمجھاؤ تا کہ وہ اپنی اصلاح کرلے اور پھر بھی اگر نہ سمجھے تو پھر اصلاح کے لئے متعلقہ عہدیدار ہیں ، نظام جماعت ہے ،امیر جماعت ہے اور اگر کسی وجہ سے کوئی مصلحت آڑے آرہی ہے یا تسلی نہیں ہے تو مجھ تک پیغام پہنچایا جاسکتا ہے۔بعض لوگ مجھے شکایت کرتے ہیں لیکن ان شکایتوں سے صاف لگ رہا ہوتا ہے کہ اصلاح کی بجائے اپنے دل کا غبار نکال رہے ہیں اور پھر اکثر یہی ہوتا ہے کہ شکایت کرنے والے اپنا نام نہیں لکھتے صرف ایک احمدی یا ایک ہمدرد لکھ دیتے ہیں نیچے یا پھر ایسا نام اور پتہ لکھتے ہیں جس کا وجود ہی نہیں ہو تا جو بالکل غلط ہوتا ہے۔ایسے لوگ سوائے میرے دل میں کسی کے خلاف گرہ پیدا کرنے کی کوشش کے اور کچھ نہیں کر رہے ہوتے۔اور اس میں بھی وہ کامیاب نہیں ہوتے۔کیونکہ نام چھپانے سے ایک تو صاف پتہ چل رہا ہوتا ہے کہ کوئی ہمدرد نہیں ہے بلکہ صرف کسی دوسرے کو بد نام کرنا چاہتے ہیں۔عموما تو ایسے خطوں پر کوئی کارروائی نہیں ہوتی اور میرا کام تو ویسے بھی یہ ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے