خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 67
خطبات مسرور جلد ہشتم 67 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 5 فروری 2010 کرنے سے پہلے خدا تعالیٰ سے مدد چاہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے شر سے بچائے ، جو بھی اس کام میں شر ہے اس سے بچائے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صرف ظاہری حسن دیکھ کر کسی کام کے کرنے پر تیار نہ ہو جاؤ، اس پر آمادہ نہ ہو جاؤ، کسی چیز کو دیکھ کر اس کے حسن کو دیکھ کر اس پہ مرنے نہ لگو۔بلکہ جہاں شبہات کا امکان ہے وہاں اچھی طرح چھان پھٹک کر لو اور ہر کام کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ سے راہنمائی اور مدد چاہو۔اس سے کام میں ایک تو برکت پڑتی ہے اور برائیوں میں ڈوبنے سے یا برائیوں کے بداثرات سے انسان بچتا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ اس کو ہر شر سے محفوظ رکھتا ہے۔زندگی کے ہر کام میں تقویٰ دوسری بات یہ واضح فرما دی کہ اگر زندگی میں ہر کام میں تقویٰ کو سامنے نہیں رکھو گے ، پھونک پھونک کر قدم نہیں اٹھاؤ گے ، حلال، حرام کے فرق کو نہیں سمجھو گے تو پھر گناہ کا ارتکاب کرو گے۔جو بھی گناہ کرو گے اس کی سزا ملے گی۔یہ بہانے کام نہیں آئیں گے کہ ہمیں پتہ نہیں چلا۔اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلی آیت میں ایک اصولی بات یہ بیان فرما دی کہ بہت سے لوگ اپنی خواہشوں کے مطابق لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔اس لئے تمہیں ہوشیار ہو نا چاہئے حلال حرام کے فرق کو پہچانو۔جس کام سے خدا تعالیٰ نے روکا ہے اس سے رک جاؤ۔اثہ کا لفظ استعمال فرما کر واضح فرما دیا کہ اس ہدایت کے باوجوداگر تم باز نہیں آتے اور غلط راستے پر چلانے والوں کی باتوں میں آتے ہو تو یہ ایسا گناہ ہے جو ظاہر ہے پھر تم جان بوجھ کر کر رہے ہو۔اور جو گناہ جان بوجھ کر کئے جائیں وہ سزا کا مورد بنا دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اثم ، گناہ کے حوالے سے قرآن کریم میں متعدد احکامات دے ئے ہیں جن میں سے بعض اور بھی میں یہاں بیان کروں گا۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاعراف میں اس بات کی یوں وضاحت فرمائی ہے۔فرمایا کہ قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَ اَنْ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلُ بِهِ سُلْطَنَّا وَ أَنْ تَقُولُوا عَلَى اللهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ (الاعراف:34) تو کہہ دے کہ میرے رب نے محض بے حیائی کی باتوں کو حرام قرار دیا ہے وہ بھی جو اس میں سے ظاہر ہو اور وہ بھی جو پوشیدہ ہو۔اسی طرح گناہ اور ناحق بغاوت کو بھی اور اس بات کو بھی کہ تم اس کو اللہ کا شریک ٹھہراؤ جس کے حق میں اس نے کوئی حجت نہیں اتاری اور یہ کہ تم اللہ کی طرف ایسی باتیں منسوب کرو جن کا تمہیں کوئی علم نہیں ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اس بات کو مزید واضح فرمایا کہ تمام قسم کے غلط اور شیطانی کام کی اسلام سختی سے مناہی فرماتا ہے۔ایک مومن کے لئے ضروری ہے کہ ان باتوں کی تلاش میں رہے کہ کون سے کام تقویٰ پر چلانے والے ہیں اور کون سے کام تقویٰ سے دور لے جانے والے ہیں اور خد اتعالیٰ سے دور لے جانے والے ہیں۔