خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 47 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 47

خطبات مسرور جلد ہشتم 47 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جنوری 2010 جس کے سب سے اعلیٰ اور اکمل فرد حضرت محمد مصطفی اللہ علیہ وسلم تھے جو انسان کامل کہلائے۔پس صرف آیات پڑھ کر یا آیات پڑھ لینے سے انسان نور سے حصہ نہیں لے گا بلکہ اس اُسوہ پر چلنے سے حصہ ملے گا جو توحید کے قیام کے لئے آنحضرت صلی الی مریم نے ہمارے سامنے پیش فرمایا۔پھر آپ نے اُمت کو فتنوں اور فساد سے بچنے کے لئے ، معاشرے کو خوبصورت بنانے اور اپنے آپ کو اور اپنی نسلوں کو اس نور سے منور کرنے کے لئے دعا سکھائی ہے۔ایک روایت میں ذکر آتا ہے۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی کم ہمیں کلمات سکھایا کرتے تھے لیکن آپ کا یہ کلمات سکھانا ہمیں تشہد سکھانے کی طرح نہ تھا۔(کلمات یہ تھے ) اے اللہ ! ہمارے دل پر خیر جمع کر دے اور ہمارے درمیان صلح کے سامان مہیا فرما اور ہمیں سلامتی کی راہیں دکھا اور ہمیں اندھیروں سے نجات دے اور نور کی طرف لے آ اور ہمیں بُری باتوں اور فتنوں سے بچا۔خواہ ان کا تعلق ظاہر سے ہو یا باطن سے۔اور اے ہمارے رب ہمارے کانوں، آنکھوں اور دلوں میں برکت دے اور بیویوں اور اولاد میں بھی برکت عطا فرما اور ہم پر رجوع بر حمت ہو۔یقیناً تو بہت توبہ قبول کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے اور ہمیں اپنی نعمت کا شکر گزار اور اس کی تعریف کرنے والا اور اسے قبول کرنے والا بنا اور وہ نعمت ہم پر پوری کر۔( سنن ابی داؤد کتاب الصلاة باب التشهد حديث 969) اور سب سے بڑی نعمت ایک مومن کے لئے اس کے دین پر قائم رہنا ہے۔اعمال صالحہ بجالانا ہے۔اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا ہے۔اس کے حقوق ادا کرنا ہیں۔اس کے لئے ہر مومن کو کوشش کرنی چاہئے۔پھر آپ نے ایک اور دعا سکھائی۔طاؤس روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ جب نبی صلی للی کم نماز تہجد کے لئے کھڑے ہوتے تو یہ دعا کرتے تھے کہ اے اللہ ! تعریف کے لائق تو ہی ہے۔تو ہی آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے ان کو قائم رکھنے والا ہے۔تعریف کے لائق صرف تو ہی ہے۔زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے ان کی بادشاہی تیری ہے۔تعریف کا تُو ہی مستحق ہے۔زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے ان کا نور تو ہی ہے۔اور تعریف کے لائق تو ہی ہے۔تو ہی آسمان وزمین کا مالک ہے اور تعریف کے لائق تُو ہی ہے۔تو بر حق ہے اور تیر اوعدہ برحق ہے اور تیری ملاقات برحق ہے اور تیرا قول بر حق ہے اور جنت برحق ہے اور دوزخ بر حق ہے اور انبیاء بر حق ہیں اور محمد علی ای کمر برحق ہیں اور قیامت کا ظہور پذیر ہونا بر حق ہے۔اے اللہ ! میں تیری طرف متوجہ ہو تا ہوں اور تجھ پر ایمان لاتا ہوں اور تجھ پر تو کل کرتا ہوں اور تیری طرف جھکتا ہوں اور تیری مدد کے ساتھ مجادلہ کرتاہوں اور تجھ سے ہی میں فیصلہ کا طالب ہوں۔پس تو مجھے میرے وہ گناہ بخش دے جو مجھ سے سرزد ہو چکے ہیں یا جو آئندہ سرزد ہوں گے اور وہ بھی جو میں نے پوشیدہ طور پر کئے ہیں اور جو اعلانیہ طور پر