خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 548
خطبات مسرور جلد ہشتم 548 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 اکتوبر 2010 انہوں نے یہ فرمایا کہ ہر خواہش کو دبانا اور ہر مطالبے سے اجتناب برتنا بھی وقف زندگی کا نصب العین ہے۔اور میری دلی تمنا ہے کہ تم سب میر اسہارا بنو۔قدم قدم پر زندگی کی تلخیوں کو قبول کر کے اللہ تعالیٰ کو خوش کرو۔بچوں کو یہ نصیحت کی۔پھر مولانا غلام احمد فرخ صاحب کے یہ بیٹے کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہمارے پاس آئے۔اس وقت یہ فوج میں میجر تھے جب ریٹائرڈ ہوئے تھے۔بچے اچھی جگہ پر کاموں پر لگے ہوئے تھے۔تو ہماری بچوں کی یہ خواہش تھی کہ ہم آپ کی کچھ خدمت کریں اور آپ ریٹائر منٹ لے لیں۔ہم نے اپنے والد کے سامنے اس خواہش کا اظہار کیا تو انہوں نے کہا کہ تمہیں کل جواب دوں گا۔اور ہم سب اس جواب سے بڑے خوش ہوئے۔اور اطمینان ہوا کہ شاید مان جائیں گے۔کل یہی جواب ہو گا کہ اچھا ٹھیک ہے میں تم لوگوں کے پاس آجاتا ہوں۔لیکن کہتے ہیں ہماری خوشی بھی عارضی ثابت ہوئی۔آپ نے ہمیں اپنے پاس بٹھایا اور فرمایا کہ میں ایک انتہائی عاجز انسان ہوں۔تم لوگوں نے جو بات کل مجھے کہی تھی اس نے کل کا میرے ذہن کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔خدا کے لئے دوبارہ مجھے یہ بات کبھی نہ کہنا۔میں نے اپنے اللہ سے حلفاً یہ عہد کیا ہوا ہے کہ وقف زندگی کا ہر سانس بحیثیت واقف زندگی بسر کروں گا۔یہاں تک کہ اللہ مجھے اس دنیا سے واپس بلا لے۔ڈرتا ہوں کہ تمہاری ان باتوں سے میں تجدید عہد میں لغزش نہ کھا جاؤں۔اس لئے دوبارہ تم لوگوں سے کہتا ہوں کہ آج کے بعد مجھ سے کبھی اس طرح نہ کہنا۔یہ کہہ کر آپ کھڑے ہو گئے اور کہا ہمیشہ دعا کرتے رہنا کہ میں اللہ تعالیٰ کے حضور کئے ہوئے اپنے عہد پر پورا اتروں۔پس یہ لوگ تھے جنہوں نے وقف زندگی کا اور قناعت کا حق ادا کیا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک واقف زندگی کے لئے فرماتے ہیں کہ ”سفر کے شدائد اٹھا سمیں"۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 684 جدید ایڈیشن ) سفر کی جو مشکلیں اور صعوبتیں اور شدتیں ہیں ان کو برداشت کر سکیں۔گاؤں گاؤں پھر کر لو گوں کو ہماری بعثت کی اطلاع دیں۔شروع میں ہمارے جو مبلغین افریقہ گئے ہیں اور ہندوستان میں بھی جو مبلغین تبلیغ کرتے تھے وہ سفر کی شدت برداشت کیا کرتے تھے۔سفر کی سہولتیں تو تھیں نہیں اور زادِ راہ بھی اتنا نہیں ہو تا تھا کہ جو سہولتیں میسر ہیں ان کا استعمال کر سکیں۔اتنے پیسے نہیں ہوتے تھے۔اور پھر نہ صرف یہ کہ سفر کی صعوبتیں برداشت کرتے تھے بلکہ مخالفتوں کا بھی ہندوستان میں بھی، باہر بھی اور افریقہ وغیرہ میں بھی سامنا کرنا پڑتا تھا۔مولانا نذیر احمد علی صاحب کے کئی ایسے واقعات ہیں جب انہیں گاؤں والوں نے دھتکار دیا اور انہوں نے راتیں باہر جنگل میں گزاریں۔ساری ساری رات مچھروں میں بیٹھے رہے۔وہاں افریقہ میں مچھر بھی بڑے خطر ناک ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج افریقہ میں جماعت کی جو نیک نامی ہے اور بڑی ترقی ہے وہ انہی بزرگوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ان کا ایک واقعہ بیان کرتا ہوں۔