خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 463 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 463

خطبات مسرور جلد ہشتم 463 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 ستمبر 2010 پس دانہ جب پودہ بنتا ہے تو فرمایا کہ وہ پودہ بننے کے لئے خود فنا ہو کر پودہ بنتا ہے۔تم بھی اگر ثمر آور درخت بننا چاہتے ہو ، اگر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا چاہتے ہو تو اپنے آپ کو فنا کر و۔اسی سے اللہ تعالیٰ کی رضا بھی حاصل ہو گی اور آئندہ نسلوں میں بھی یہ روح قائم رہے گی جو دین پر چلنے والے ہوں گے۔تو یہ عارضی کوششیں نہیں ہیں بلکہ مسلسل کوشش ہے جو ایک مومن کا فرض ہے کرتا چلا جائے۔اس دانے کی طرح فنا ہونے کی ضرورت ہے جس سے پھل دار پودہ بنتا ہے۔اور فرمایا کہ یہ اس صورت میں ہو گا جب اس اقرار اس عہد کو سامنے رکھو گے جو تم نے اس زمانے میں اس امام سے کیا ہے۔اور خدا تعالیٰ سے کیا ہے۔چونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم ان کی مدد کرتے ہیں۔اب اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کو سامنے رکھو گے کہ ہم ان کی مدد کرتے ہیں، ان کو راستہ دکھاتے ہیں جو مسلسل کوشش کرتے ہیں تو پھر ہی کامیاب ہو گے۔اگر نہیں رکھو گے تو پھر کامیابی نہیں۔پھر ایک جگہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ: بموجب تعلیم قرآن شریف ہمیں یہ امر یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک طرف تو اللہ تعالی قرآن شریف میں اپنے کرم، رحم، لطف اور مہربانیوں کے صفات بیان کرتا ہے اور رحمان ہونا ظاہر کرتا ہے اور دوسری طرف فرماتا ہے کہ وَ اَنْ لَّيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى (النجم : 40) اور وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت:70) فرما کر اپنے فیض کو سعی اور مجاہدہ میں منحصر فرماتا ہے۔نیز اس میں صحابہ رضی اللہ عنہم کا طرزِ عمل ہمارے واسطے ایک اُسوہ حسنہ اور عمدہ نمونہ ہے۔صحابہ کی زندگی میں غور کر کے دیکھو بھلا انہوں نے محض معمولی نمازوں سے ہی وہ مدارج حاصل کر لئے تھے ؟ نہیں! بلکہ انہوں نے تو خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے واسطے اپنی جانوں تک کی پرواہ نہیں کی اور بھیڑ بکریوں کی طرح خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان ہو گئے۔جب جاکر کہیں ان کو یہ رتبہ حاصل ہوا تھا۔اکثر لوگ ہم نے ایسے دیکھے ہیں وہ یہی چاہتے ہیں کہ ایک پھونک مار کر ان کو وہ درجات دلا دیئے جاویں اور عرش تک ان کی رسائی ہو جاوے“۔فرمایا کہ ” ہمارے رسول اکرم صلی علی نام سے بڑھ کر کون ہو گا۔وہ افضل البشر ، افضل الرسل والانبیاء تھے جب انہوں نے ہی پھونک سے وہ کام نہیں کئے تو اور کون ہے جو ایسا کر سکے۔دیکھو آپ نے غارِ حرا میں کیسے کیسے ریاضات کئے۔خدا جانے کتنی مدت تک تضرعات اور گریہ وزاری کیا گئے۔تزکیہ کے لئے کیسی کیسی جانفشانیاں اور سخت سے سخت محنتیں کیا گئے۔جب جاکر کہیں خدا کی طرف سے فیضان نازل ہوا۔اصل بات یہی ہے کہ انسان خدا کی راہ میں جب تک اپنے اوپر ایک موت اور حالت فناوار دنہ کر لے تب تک ادھر سے کوئی پر واہ نہیں کی جاتی۔البتہ جب خدا دیکھتا ہے کہ انسان نے اپنی طرف سے کمال کوشش کی ہے اور میرے پانے کے واسطے اپنے اوپر موت وارد کرلی ہے تو پھر وہ انسان پر خود ظاہر ہوتا ہے اور اس کو نوازتا اور قدرت نمائی سے بلند کرتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 507 جدید ایڈیشن ربوہ)