خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 286 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 286

خطبات مسرور جلد ہشتم 286 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جون 2010 صلح میں پہل کرنے والے تھے۔ان کی صرف معمولی تنخواہ تھی۔جو پنشن ملتی تھی اس سے لوگوں کا راشن وغیرہ لگایا ہوا تھا۔جماعت سے انتہائی طور پر وابستہ تھے اور خلافت سے بہت محبت کرتے تھے۔ماں باپ کی خدمت کرنے والے تھے۔اسی وجہ سے ملازمت کی مدت پوری ہونے سے قبل ہی ریٹائرمنٹ لے لی اور خدمت کے لئے آگئے۔ان کی اہلیہ بیان کرتی ہیں کہ عادت کے اتنے اچھے تھے کہ اگر اپنا اور اپنے بچوں کا قصور نہ بھی ہوتا تو رشتے داروں کے ساتھ صلح کے لئے بچوں سے بھی معافی منگواتے تھے۔خود بھی معافی مانگ لیتے تھے۔شہادت سے دو مہینے قبل اپنے خاندان کو بعض مسائل کے حوالے سے پانچ صفحات کا نصیحت آمیز خط لکھا اور اس میں اپنے بچوں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ میں اپنے بچوں سے بھی معافی مانگتا ہوں کہ اس وجہ سے میں تم سے معافی منگواتا تھا اگر چہ مجھے پتہ بھی ہو تا تھا کہ تمہاری غلطی نہیں ہے۔شہادت کے بعد کچھ لوگ ملنے آئے تو کہتے ہیں کہ انہوں نے تو ہمارا راشن لگایا ہوا تھا۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے اور ان کی اولاد کو ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔مکرم ناصر محمود خان ناصر محمود خان صاحب شہید ابن مکرم محمد عارف نسیم صاحب۔شہید مرحوم کے والد محمد عارف نیم صاحب نے 1968ء میں بیعت کی تھی۔ضلع امرتسر کے رہنے والے تھے۔پارٹیشن کے بعد یہ رائے ونڈ آ گئے۔پھر لاہور میں سیٹ ہو گئے۔شہید مرحوم خدام الاحمدیہ کے بڑے فعال کارکن تھے۔پرنٹنگ پریس ایجنسی کا کام کرتے تھے۔ان کے والد بھی بطور سیکرٹری زراعت اور والدہ بطور جنرل سیکرٹری ضلع لاہور خدمت سر انجام دے رہے ہیں۔خود یہ بطور ناظم عمومی اور نائب قائد اول حلقہ فیصل ٹاؤن خدمات سر انجام دے رہے تھے۔ناظم عمومی بھی تھے اور نائب قائد اول بھی تھے۔نظام وصیت میں شامل تھے۔دارالذکر میں ان کی شہادت ہوئی ہے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 39 سال تھی۔شہید مرحوم کے بھائی مکرم عامر مشہور صاحب بتاتے ہیں کہ دارالذکر میں جب دہشتگردوں نے حملہ کیا تو میں ہال کے اندر تھا اور بھائی باہر سیڑھیوں کے پاس تھے۔دورانِ حملہ میری ان سے فون پر بات ہوئی اور بھائی نے بتایا کہ میں محفوظ ہوں سیڑھیوں کے نیچے کافی لوگ موجود تھے۔دہشت گرد نے ان کی طرف گرینیڈ پھینکا تو بھائی نے گرینیڈ اٹھا کر واپس پھینکنا چاہا۔یہ وہی نوجوان ہیں جنہوں نے اپنے ہاتھ پر گرینیڈ لے لیا تا کہ دوسرے زخمی نہ ہوں یا ان کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔لیکن اسی دوران گرینیڈ ان کے ہاتھ میں پھٹ گیا اور وہیں ان کی شہادت ہو گئی۔دوسروں کو بچاتے ہوئے شہید ہوئے۔شہید مرحوم نے گھر میں سب سے پہلے وصیت کی تھی اور گھر کے سارے کام خود سنبھالتے تھے۔رابطہ اور تعلق بنانے میں بڑے ماہر تھے۔کہتے ہیں ان کی شہادت پر غیر از جماعت دوست بھی بہت زیادہ ملنے آئے۔بھائی نے بتایا کہ جب ہم نے کار خریدی تو عید وغیرہ پر جاتے ہوئے پہلے