خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 220 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 220

خطبات مسرور جلد ہشتم 220 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 مئی 2010 پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔آمَنْ يَهْدِيكُمْ فِي ظُلُمَتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَ مَنْ يُرْسِلُ الرِّيحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَى رَحْمَتِهِ عَالَهُ مَعَ اللَّهِ تَعَلَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ۔(النمل:64) یا پھر وہ کون ہے جو خشکی اور تری کے اندھیروں میں تمہاری رہنمائی کرتا ہے ؟ اور کون ہے وہ جو اپنی رحمت کے آگے آگے خوشخبری کے طور پر ہوائیں چلاتا ہے۔کیا اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہے؟ بہت بلند ہے اللہ اس سے جو وہ شرک کرتے ہیں۔پس یہاں پھر جہاں ظاہری دنیاوی بارشوں کا ذکر ہے اور مصیبتوں سے نجات کا ذکر ہے وہاں روحانی اندھیروں کا بھی ذکر ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے برگزیدوں کے آنے سے پہلے خدا کو ماننے والے اور نہ ماننے والے دونوں جو ہیں وہ خدا سے دور ہوتے ہیں اور اندھیروں میں پڑے ہوئے ہوتے ہیں۔پھر خدا تعالیٰ جو اپنی مخلوق کی بہتری کے سامان پیدا فرما تا رہتا ہے انبیاء کو بھیجتا ہے۔آنحضرت صلی علیہ کم کی بعثت بھی اس وقت ہوئی جب دنیا کی ایسی حالت تھی جس کا نقشہ قرآنِ کریم میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم :42) یعنی خشکی اور تری میں فساد بر پا تھا۔وہ قومیں جو خدا پر یقین کرتی تھیں وہ بھی اپنے بگاڑ کے انتہاء کو پہنچی ہوئی تھیں اور جو خدا پر یقین نہیں کرتی تھیں وہ بھی اپنے بگاڑ کے انتہاء کو پہنچی ہوئی تھیں۔اس وقت آنحضرت صلی علیہ ہم کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا۔بعض نیک لوگوں نے اس وقت بھی ٹھنڈی ہواؤں کو محسوس کر لیا جس طرح ایک عیسائی راہب کے بارے میں آتا ہے کہ آپ کے ظہور کی خبر اس نے دی۔(السيرة النبوية لابن ہشام۔قصہ تیری صفحہ 145 مطبوعہ بیروت ایڈیشن 2001ء) اسی طرح اس زمانے میں آنحضرت صلی علیم کے غلام صادق کے زمانے میں بشمول مسلمان ہر مذہب والے کی ایمانی حالت میں بگاڑ پیدا ہو چکا تھا بلکہ ابھی تک پیدا ہوا ہوا ہے۔آپ علیہ السلام کی بعثت سے قبل بعض نیک فطرت کسی مصلح کے آنے کے منتظر تھے اور محسوس کر رہے تھے کہ کوئی آنے والا ہے کیونکہ زمانے کا بگاڑ انتہا تک پہنچ چکا ہے۔لیکن ان میں سے ایسے بھی تھے جنہوں نے ضرورت محسوس کرنے کے باوجود جب آپ نے اپنی بعثت کا اعلان فرمایا تو آپ کو قبول نہ کیا۔بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی بعثت کے تعلق میں لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : ”اے بندگانِ خدا! آپ لوگ جانتے ہیں کہ جب امساک باراں ہوتا ہے اور ایک مدت تک مہینہ نہیں برستا تو اس کا آخری نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کنوئیں بھی خشک ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔پس جس طرح جسمانی طور پر آسمانی پانی بھی زمین کے پانیوں میں جوش پیدا کرتا ہے اسی طرح روحانی طور پر جو آسمانی پانی ہے ( یعنی خدا کی وحی) وہی سفلی عقلوں کو تازگی بخشتا ہے۔سو یہ زمانہ بھی اس روحانی پانی کا محتاج تھا“۔فرمایا: ”میں اپنے دعویٰ کی نسبت اس قدر بیان کرناضروری سمجھتا ہوں کہ میں مین ضرورت کے وقت خدا کی طرف سے بھیجا گیا ہوں جبکہ اس